’ایک بار بات سن لی، بار بار کیوں فون کرتے ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جموں و کشمیر میں شدید بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے

سیلاب سے متاثرہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مرکزی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب تک 47 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔

سری نگر کے کئی علاقوں میں اب بھی پانی بھرا ہوا ہے اور بھارتی فوج کے 40 سے زیادہ ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں۔

لیکن اس کے باوجود لوگ امدادی سرگرمیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بھی اثرورسوخ کام آ رہا ہے۔

جموں کے ڈویژنل کمشنر شانت منو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔

ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی تلاش اور امدادی کاموں میں سست روی پر ناراض نظر آئے۔

جموں میں رہنے والی رادھیكا مہاجن کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر تین دن سے سری نگر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا، ’میرے شوہر نتن گپتا ایک سرکاری ملازم ہیں اور سری نگر میں گزشتہ اتوار سے اپنے کوارٹر میں پھنسے ہیں۔ سنیچر کے بعد جو سیلاب کا پانی آیا تو كوارٹرز میں گھس گیا۔ ہماری بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔ پیر کی شام کو ان کا فون آیا وہ بس اتنا ہی بول پائے کہ ہمیں کسی طرح سے یہاں سے نکالو۔‘

Image caption لوگ امدادی سرگرمیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بھی اثرورسوخ کام آ رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ حکومت جن ملازمین کے بل پر چلتی ہے، ان کے پاس کوئی مدد نہیں پہنچی ہے.

رادھكا نے یہ بھی کہا کہ، ’سب سے بڑی بات ہے۔ ہمارا کوارٹر تلسی نگر میں ہے اور اس کے پاس ہی ممبران اسمبلی اور صوبائی وزراء کے بھی گھر ہیں۔ ان لوگوں کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے. اگر وہ ان لوگوں کو نکال سکتے ہیں تو ہمارے لوگوں کو کیوں نہیں؟‘

بي آر شرما ایک سرکاری ملازم ہیں۔ وہ سرینگر میں کام کرتے ہیں اور کچھ دن پہلے ہی جموں آئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا مکان بخشی سٹیڈیم کے قریب ہے اور سنیچر کو جب وہ سری نگر سے نکلے تھے تب مکان کی ایک منزل ڈوب چکی تھی۔

بي آر شرما کا کہنا تھا کہ وہاں 40 عورتیں بھی پھنسی ہوئی ہیں اور جب آخری بار ان کی اپنے ایک ساتھی سے بات ہوئی تھی تب اس نے کہا تھا کہ اب تو پینے کا پانی بھی نہیں ہے اور کھانا تو کب کا ختم ہو چکا ہے۔

Image caption جموں میں رہنے والی رادھیكا مہاجن کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر تین دن سے سری نگر میں پھنسے ہوئے ہیں

انھوں نے بتایا، ’ہم گزشتہ دو دن سے انتظامیہ کے دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ جو دہلی کی ہیلپ لائن ہے وہاں فون کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ایک بار آپ کی سن لی، آپ بار بار فون کیوں کرتے ہیں لیکن جب تک ہمیں پتہ نہیں چلے گا کہ ان لوگوں کو نکالا گیا یا نہیں ہم فون کرتے رہیں گے. ہمیں پتہ چل رہا کہ اب پانی پہلی منزل سے اوپر چلا گیا ہے۔‘

جموں کے رہائشی سدھیر کمار کا بیٹا سری نگر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پڑھتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہاسٹل میں پیر کو پانی پہلی منزل تک تھا اور اب دوسری منزل تک پہنچ چکا ہے۔

سدھیر کمار کا الزام ہے کہ کچھ مقامی لوگوں نے ہاسٹل کی اوپری منزلوں پر پناہ لے لی ہے اور بچے یونیورسٹی کے باہر سڑک پر ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ’بچے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے ہیں۔ جب میری بیٹے سے منگل بات ہوئی تو وہ کہہ رہا تھا کہ ہم پیدل ہی کارگل کی طرف نکل رہے ہیں۔ میں نے ان کو سمجھا بجھا کر روکا ہوا ہے مگر انہیں وہاں سے نکالنے کی ضرورت ہے۔‘

سدھیر کمار کا کہنا ہے، ’امدادی کام میں یہ لوگوں کو جہاں تھوڑا زیادہ پانی ہے وہاں سے لوگوں کو نکال کر جہاں ایک یا دو فٹ پانی ہے وہاں لے جا کر چھوڑ رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ یہاں بھی پانی آ سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں