کشمیر: لاکھوں افراد ابھی بھی امداد کے منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فوج کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں مستعد ہیں اور امدادی کام جاری ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایک لاکھ 42 ہزار افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیا گیا ہے جبکہ امدادی کارروائی زور و شور سے جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیلاب زدہ جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے سنیچر کو سری نگر میں کل جماعتی اجلاس بلایا ہے۔

حکام کے مطابق ابھی تک لاکھوں افراد مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے بڑے پیمانے پر تعاون کی اپیل کی ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ایک فوجی ترجمان نے جموں میں بتایا: ’مسلح افواج اور این ڈی آر ایف نے 12 دنوں سے جاری امدادی کارروائی میں اب تک ایک لاکھ 42،000 افراد کو بچایا ہے۔‘

جبکہ 13 ٹن پانی کو صاف کرنے والی گولیاں اور روزانہ ایک لاکھ 20 ہزار بوتل پانی تیار کرنے والے چھ واٹر فلٹریشن پلانٹس پہلے ہی سری نگر پہنچ چکے ہیں۔

خبررساں ادارے کے مطابق 82 ہزار کمبل اور 1119 خیمے سیلاب زدہ افراد کو فراہم کرائے گئے ہیں جبکہ فوجی میڈیکل سروس کی 80 ٹیمیں پورے طور سرگرم عمل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مقامی لوگ ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے پینے کے پانی کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے 200 کروڑ روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مکانوں کی مرمت کے لیے لوگوں کو 75 ہزار روپے کی پہلی قسط ادا کی جائے گی اور مرنے والوں کے اہل خانہ کو ساڑھے تین لاکھ معاوضے کے طور پر دیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔

اس امدادی پیکج کے تحت لوگوں کو چھ ماہ تک مفت راشن مہیا کرائے جانے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

سری نگر اور دوسرے شہروں میں سیلاب کے پانی میں کمی کے بعد ہزاروں لوگوں تک پہنچنے کی کوششیں جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption امداد باہمی کا زبردست منظر سامنے آيا ہے

سری نگر میں موجود بی بی سی کے نمائندے فیصل محمد علی سے ایک امدادی کیمپ کا انتظام دیکھنے والے لوگوں نے شکایتیں کیں۔

انھوں نے کہا: ’یہ کیمپ ہم اپنے پیسوں سے چلا رہے ہیں۔ حکومت سے ہمیں کوئی امداد نہیں مل رہی ہے۔ نہ پیسا، نہ پانی، نہ کچھ اور۔ جو بھی گذشتہ چار دنوں سے کررہے ہیں سب ذاتی ہے۔

ایک شخص نے کہا: ’یہاں فوج تو آئی لیکن اس نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ ہمارے مکان گر گئے لیکن کوئی بچانے کے لیے نہیں آیا۔ ہمیں مقامی لوگوں نے بحفاظت نکالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نوجوان ٹولیاں بناکر ضروت مندوں تک امداد فراہم کرنے کی کوشش میں لگے ہیں

سری نگر سے ہی صحافی شجاعت بخاری نے بتایا کہ اس سیلاب میں امداد باہمی کا زبردست منظر سامنے آیا ہے۔ ہر کس و ناکس گھر سے نکل کر پانی میں ڈوبی سڑکوں پر اتر آیا ہے اور جو ضرورت مند تھے انھیں امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔

نوجوان ٹولیوں میں کام کر رہے ہیں اور جہاں کشتی دستیاب نہیں ہے وہ ڈرم اور ٹرک کے ٹیوب یا لکڑی کے سہارے تیر کر امداد بہم پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں