کشمیر، سیلاب اور بی جے پی کی سیاست

بھارت کے زیر انتظام کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیا بی جے پی سیلاب کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اگلے چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں لیکن ریاست میں آئے سیلاب کی وجہ سے صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے۔

سرکاری عملہ امدادی کاموں میں مصروف ہے اور ان حالات میں انتخابات کی تیاری پر بھی اثر پڑا ہے۔

جموں و کشمیر میں اگلے سال جنوری 2015 تک نئی اسمبلی کا قیام ہونا ہے، لیکن اب اس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہے۔

بی جے پی کی امید

مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کا خیال ہے کہ اس بار ریاست میں حکومت بنانے کا اچھا موقع ہے پارٹی کو جموں میں اسمبلی کی تمام سیٹیں جیتنے کی امید ہے۔

کچھ دن پہلے ڈی این اے اخبار میں ایک خبر چھپی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی گجرات میں سال 2002 کے زلزلے کے بعد بحالی کی طرز پر جموں کشمیر کے سیلاب کے سانحہ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

Image caption مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کا خیال ہے کہ اس بار ریاست میں حکومت بنانے کا اچھا موقع ہے

وزیر اعظم کے دفتر میں پی مشرا جیسے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہیں جو قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کے انتظام کے ماہر ہیں۔

پارٹی کی کشمیر یونٹ کے وفد سے انھوں نے کہا ہے کہ وہ ریاست میں اعلٰی درجے کے گاؤں اور اسی طرح کی کچھ دیگر ادارے بنانا چاہتے ہیں اور اس طرح کے کاموں میں آر ایس ایس کو کافی تجربہ ہے۔

اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بی جے پی اسمبلی انتخابات میں اس کا فائدہ کس طرح اٹھاتی ہے اور یہ دیکھنا بھی اتنا ہی دلچسپ ہوگا کہ حریت یا اس کا کوئی گروپ جمہوری عمل میں شامل ہوگا یا نہیں۔

بھارت میں جموں و کشمیر کے علاوہ دیگر تمام ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہر پانچ سال میں ہوتے ہیں، لیکن جموں کشمیر کا الگ آئین ہے اور اس کے مطابق ریاست میں پانچ کی بجائے چھ سال میں اسمبلی انتخابات ہوتے ہیں۔

ریاست میں گزشتہ اسمبلی انتخابات 2008 میں ہوئے تھے اور دوسرا الیکشن اب کچھ ہی مہینوں میں ہونا چاہیے۔

انتخابات کرانے کے لیے ریاست کے انتظامی عملے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن کو اس ہفتے ریاست کا دورہ کرنا تھا لیکن سیلاب کی وجہ سے کمیشن کو اپنا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔

ریاست میں امدادی کام جاری ہے اور انتظامیہ اگلے چند مہینے ان ہی کاموں میں مصروف رہے گی۔

اس وقت تک موسمِ سرما شروع ہو جائے گا اور ریاست کے کئی حصوں میں پہنچنا بھی مشکل ہوگا.۔

خدشہ ہے کہ ریاست میں صدر راج نافذ ہو سکتا ہے اور انتخابات اب سال 2015 کے موسم گرما میں ہی ہو سکیں گے۔

انتخابات اور شرکت

انتخابات میں کشمیری پنڈتوں کی شرکت کی بات کریں تو 1996 تک 54 فیصد کشمیری پنڈتوں نے ووٹ دینے کے اپنے حق کا استعمال کیا 2002 میں یہ شرکت کم ہو کر 43 فیصد رہ گئی جو 2008 میں بڑھ کر 61 فیصد ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الیکشن کمیشن کو اس ہفتے ریاست کا دورہ کرنا تھا لیکن سیلاب کی وجہ سے کمیشن کو اپنا دورہ منسوخ کرنا پڑا

ریاست کے ووٹروں نے مجموعی طور پر جمہوری عمل کو قبول کیا ہے اگرچہ وادی کے کچھ حصوں میں صورتِ حال اس کے برعکس نظر آئی۔

وادی اور شدت پسندی

وادی میں شدت پسندی میں کمی آنے کے ساتھ جمہوریت کو بھی فروغ ملا ہے۔ خاص طور پر سال 2002 کے بعد جب، بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے لشکر طیبہ اور جیش محمد تنظیموں پر پابندی لگا دی تھی۔

2002 کے انتخابات میں ووٹنگ میں کمی ہوئی تھی کہا جاتا ہے کہ سنہ 2001 میں کشمیر کی تاریخ میں اب تک کا سب سے پر تشدد سال رہا تھا جب تقریباً 600 فوجیوں سمیت 4،507 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

2002 میں 3،022 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کے بعد سے ہر سال یہ تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔

2001 کے بعد سے ریاست میں علیحدگی پسند تشدد تقریباً ختم ہو گیا تب سے یہاں کسی بھی سال 200 سے زیادہ لوگ نہیں مارے گئے ہیں، جبکہ دو دہائی پہلے تک ہر سال ہزاروں لوگ مارے جاتے تھے۔

ریاست میں قانون ساز کونسل بھی ہے جس کے لیے بالواسطہ طریقے سے انتخاب ہوتے ہیں، ان میں بھی بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وادی میں رہنے والے کشمیریوں کا بھارت کے لیے رویہ تبدیل ہوا ہے۔

اسی بارے میں