کابل میں فوجی قافلے پر کار بم حملہ، تین نیٹو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ دھماکہ ہوائی اڈے جانے والے سڑک پر وزارتِ داخلہ کی عمارت اور سپریم کورٹ کے قریب ہوا ہے

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں غیر ملکی افواج کے ایک قافلے پر بم حملہ کیا گیا ہے جس کم از کم تین نیٹو اہلکار ہلاک اور 16 دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے ک یہ حملہ ایک خودکش کار بم حملہ آور نے کیا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ شہر کی عمارتیں لرز اٹھیں۔

حکام کے مطابق یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح 8:00 بجے ایئرپورٹ روڈ پر وزارتِ داخلہ کی عمارت اور سپریم کورٹ کے قریب ہوا ہے۔

طالبان نے حملے کے ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

جبکہ نیٹو کی سربراہی والے اتحاد کی جانب سے جاری ایک بیان میں ایساف کے تین اراکین کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مرکزی شاہراہ پر دھماکے سے کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں ہیں اور یہ جگہ امریکی سفارتخانے کے قریب ہی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق غیر ملکی افواج کے اہلکار زخمی ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی فراہم کی۔

یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب ملک میں متنازع صدارتی انتخابات کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال ہے اور اس سال کے آخر میں غیر ملکی افواج میں افغانستان سے جانے والی ہیں۔

کابل میں بی بی سی کے ڈیوڈ لائن کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایک بکتربند لینڈ کروزر میں سفر کر رہے تھے جب یہ حملہ ہوا اور گاڑی دھماکے میں پوری طرح تباہ ہو گئی۔

بی بی سی فارسی کے کاعون خموش جو دھماکے کے وقت جائے واقعے سے بہت دور نہیں تھے انھوں نے بتایا حملے کے بعد لوگ میں ہراس نظر آیا۔ انھوں نے عمارتوں اور کاروں کے ٹوٹے شیشے دیکھے۔

ایک دوسرے عینی شاہد جو اس دھماکے میں بال بال بچے تھے انھوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا: ’میں نے گاڑی سے اتر کر چلنا ہی شروع کیا تھا کہ دھماکہ ہوا، مڑ کر دیکھا تو وہ گاڑی پوری طرح تباہ ہوچکی تھی جس میں میں سوار تھا۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان حملے کر رہے ہیں۔

جولائی میں طالبان کی جانب سے کیے گئے ایک حملے میں 3 غیر ملکی سکیورٹی گارڈز سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں