کشمیری طلبا کی مدد کی اپیل، ہندو قوم پرستوں کا ہنگامہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی جے پی کے اقتداد میں آنے کے بعد سے مسلمانوں کے مخلاف جذبات میں شدت آئی ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیری مسلمانوں کی امداد کی اپیل کرنے پر وسطی بھارت میں انتہا پسند ہندو قومپرستوں نے ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی اور بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق بھارت کے شہر اوجین میں وکرم یونیورسٹی میں پیر کو نوجوانوں پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے یونیورسٹی کے کیمپس میں توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ اس ہجوم نے یونیورسٹی کی عمارت میں داخل ہوکر کھڑکیوں کے شیشے توڑے دیئے اور میزیں اور کرسیاں پھینکنا شروع کردیں۔ ہجوم نے لاٹھیوں سے پنکھوں کو بھی توڑ دیا۔ یہ سارے مناظر ملکی ٹی وی چینلوں پر نشر بھی کیے گئے۔

جواہر لعل کول نے کہا کہ حملہ یونیورسٹی کی طرف سے سیلاب سے متاثرہ کشمیر طالب علموں کی مدد کرنے کی اپیل کے رد عمل میں ہوا۔

مضروب وائس چانسلر نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی مدد کی اپیل کی گئی تھی اور کشمیر سیلاب زدگان کی مدد کی اپیل ریاستی حکومت کی طرف سے بھی جاری کی گئی تھی۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ حملہ آور نوجوانوں کا تعلق ہندو انتہا پسند تنظیم وشا ہندو پریسد اور بجرنگ دل سے تھا۔

بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کول نے کہا کہ انھوں نے مدھیہ پردیش سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار میں یہ اپیل کی تھی کہ جن طالب علموں کے خاندان کشمیر میں گزشتہ نصف صدی میں آنے والے بدترین سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان کی مدد کی جائے۔

انھوں نے کہا انھوں نے خاص طور پر ان مالکان سے کرایہ نہ لینے کے لیے کہا تھا جن کے مکان کشمیری طالبہ نے کرائے پر لے رکھے ہیں۔

ہندو قوم پرست نوجوان پر مشتمل ہجوم پہلے وائس چانسلر کے کمرے میں گھس گیا اور ان سے اپیل کرنے پر وضاحت طلب کی۔

وائس چانسلر نے کہا ہجوم نے دس منٹ میں دفتر کا سارا فرنیچر توڑ دیا۔ اس واقع میں وائس چانسلر کو بھی زورو کوب کیا گیا اور اس کے بعد انھیں چھاتی میں درد کی وجہ سے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کروانا پڑا۔

اسی بارے میں