نشے کے بعد جھگڑا، گیارہ زیرِ تربیت ججز برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ Allahabad High Court

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں گیارہ زیر تربیت ججوں کو نشے کی حالت میں بدتمیزی اور لڑائی کرنے پر برطرف کردیا گیا ہے۔

اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں یہ زیر تربیت جج اپنی تربیت کے دوران ایک ریسٹورنٹ میں گئے تھے۔

اس ریسٹورنٹ میں انھوں نے بہت زیادہ شراب پینے کے بعد اپنی ساتھی جج کے بارے میں غیر مہذب جملے بولے اور ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ اس لڑائی کے باعث ریسٹورنٹ میں توڑ پھوڑ ہوئی۔

ریسٹورنٹ میں لگے سکیورٹی کیمروں کی مدد سے اس بلوے میں شامل ججوں کی شناخت کی گئی اور کمیٹی نے تفتیش کے بعد ان گیارہ ججوں کو برطرف کرنے کی سفارش کی۔

یہ گیارہ زیر تربیت جج ان 74 انٹرنیز میں شامل تھے جو لکھنؤ میں انسٹیٹیوٹ آف جوڈیشل ٹریننگ اینڈ ریسرچ میں تربیت لینے آئے تھے۔

سات ستمبر کو یہ سب لوگ ایک ریسٹورنٹ گئے۔ زیادہ شراب پینے کے بعد انھوں نے گالیاں نکالیں اور ایک دوسرے سے لڑنے لگ گئے۔

ایک خاتون جج جو ریسٹورنٹ میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھیں نے انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کو اس معاملے کی اطلاع دی جنھوں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس کو اطلاع کی۔

ریاست کے گورنر نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سفارش پر ان گیارہ زیر تربیت ججوں کو نکال دیا۔