شراکتِ اقتدار کا معاہدہ ہے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دو حریفوں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے اتوار کو شراکتِ اقتدار کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ کئی ماہ کے سیاسی تعطل اور انتخاب میں بدعنوانی کے الزام در الزام کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ثالتی کے بعد ممکن ہوا۔

چار صفحات پر پھیلے اس معاہدے میں ایک نئے عہدے ، چیف ایگزیکیٹو کے خدوخال اور اختیارات بھی واضح کیے گئے ہیں۔ یہ عہدہ وزیر اعظم کے عہدے کے برابر ہو گا۔ سابق وزیر خزانہ اشرف غنی صدر ہوں گے جب کہ چیف ایگزیکیٹو کے نئے عہدے پر سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ اپنے نمائندہ نامزد کریں گے۔

عام قیاس یہی ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ خود یہ عہدہ اختیار نہیں کریں گے۔

عبداللہ عبداللہ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ چیف ایگزیکیٹو (سی ای او) اور ان کے نائبین صدر کی حلف برداری کے ساتھ ہی اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں اور اسے ان کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یہ معاملہ بھی اس معاہدے کے طے پانے میں ایک بڑی روکاوٹ بنا ہوا تھا۔ ڈاکٹر اشرف غنی کا موقف تھا کہ آئین کے تحت انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد صدر کا حلف منعقد ہوتا ہے اور پھر قومی اتحاد کی حکومت بنائی جا سکتی ہے۔

نئی افغان قومی حکومت میں وزراء کی ایک کابینہ ہو گی جس میں چیف ایگزیکیٹو اور اس کے دو نائب شامل ہوں گے اور جس کی صدارت صدر کریں اور یہ ہی اہم فیصلے کرنے کی مجاز ہوگی۔

روزہ مرہ کا کاروبار کونسل آف منسٹر کے حوالے کر دیا جائے گا اور اس کونسل آف منسٹر کی سربراہ چیف ایگزیکیٹو کرے گا۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں وفاداریوں اور ذاتی تعلقات کا روز مرہ کی زندگی میں عمل دخل بہت زیادہ ہے، اہم حکومتی عہدوں پر تقرریاں کرنا ایک بہت مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ قومی اتحاد کی حکومت میں سب لوگوں کی توقعات کو پورا کرنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اہم حکومتی عہدوں کی برابری کی بنیاد پر تقسیم میں کامیاب رہے ہیں اور اب قیادت کی سطح پر دونوں امیدواروں کو برابری حاصل ہو گی۔

نچلی سطح پر عہدوں کی تقسیم میں توازن برقرار رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر غنی ملک میں اصلاحات کرنے کے بارے میں بے چین ہیں اور وہ اس معاہدے میں اہلیت کی بنیاد پر تقریروں کرنے کے الفاظ ڈلوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سی ای او یا چیف ایگزیکیٹو صدر کو جوابدہ ہوگا اور صدر ہی ملک کا سب سے زیادہ بااختیار عہدہ رہے گا۔ اس معاہدے میں دونوں امیدواروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اشتراک کی بنیاد پر حکومت کریں گے اور افغان عوام کے مفاد کو پیش نظر رکھیں گے۔

دونوں امیدواروں کے نسلی پس منظر، سیاسی اختلافات اور ایک تلخ صدارتی مہم کے بعد اس معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد اور حکومتی امور کی بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دہی کی گارنٹی دینا آسان نہیں ہے۔

الیکشن کے نظام میں اصلاحات ایک ایسا معاملہ ہے جس پر دونوں دھڑوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں تمام ووٹروں کو جلد از جلد ایک الیکٹرانک شناختی کارڈ جاری کیا جانا چاہیے۔ ملک میں ائندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیش کو قائم کیا جانا ہے ۔

اسی بارے میں