’کشمیر، اروناچل پردیش کو متنازع علاقہ دکھانے پر احتجاج‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چین کے صدر شی جی پنگ کے بھارت کے دورے کے دوران بھی چینی فوجی بھارت کی سرحد پر متنازع علاقے لداخ کی سرحد میں گھس آئے تھے

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے چینی صدر کے دورے کے دوران تقسیم کیے گئے ایک مبینہ نقشے میں اروناچل پردیش اور جموں کشمیر کو متنازع علاقے دیکھانے پر حکومت سے احتجاج کیا ہے۔

یہ نقشہ مبینہ طور پر ریاست گجرات کی حکومت نے گذشتہ ہفتے چین کے صدر شی جی پنگ اور وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں احمد آباد میں ایک معاہدے پر دستخط کے وقت تقسیم کیا تھا۔

واضح رہے کہ چین کے صدر شی جی پنگ کے بھارت کے دورے کے دوران بھی چینی فوجی بھارت کی سرحد پر متنازع علاقے لداخ کی سرحد میں داخل ہوئی تھی۔

ابھی تک حکومت کی جانب سے اس مبینہ نقشے کے بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری اجے ماکن نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ’اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا معاہدے میں بھی یہی نقشہ ہے جس میں اروناچل پردیش کو متنازع علاقہ دکھایا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی نے اروناچل پردیش میں اپنے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ بھارت کو جھکنے نہیں دیں گے، بھارت کی ایک انچ زمین بھی نہیں دیں گے۔

’اس نقشے میں اروناچل پردیش کو متنازع علاقہ دکھایا گیا ہے اور وزیر اعظم کو اس خوفناک غلطی کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔‘

جے ماکن نے ٹوئٹر پر اس نقشے کی تصویر ٹویٹ کی ہے اور اس کے ساتھ لکھا کہ’ کیا مودی حکومت نے اروناچل پردیش چین کو دے دیا ہے؟‘

جبکہ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ اس معاملے پر وزیراعظم کو باقاعدہ بیان دینا چاہیے اور معافی مانگنی چاہیے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے کانگریس کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اس وجہ سے بھی سنجیدہ ہے کیونکہ یہ سب وزیراعطم کی موجودگی میں ہوا۔

خیال رہے کہ چین اور بھارت کی تقریباً چار ہزار کلومیٹر لمبی سرحد کا واضح طور پر تعین نہیں ہوا ہے اور سرحدی تنازعات نے ان1962 میں جنگ کی شکل بھی اختیار کر لی تھی۔

اصل تنازع اروناچل پردیش اور کشمیر کے بعض علاقوں پر ہے۔ چین کا موقف ہے کہ اروناچل پردیش پر ہندوستان نے قبضہ کر رکھا ہے۔اس کے علاوہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کا تنازع ہے۔

اسی بارے میں