جے للیتا کو بدعنوانی پر چار سال قید، 100 کروڑ جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption جے للیتا اپنے شاہانہ طرز زندگی کی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہی ہیں

بھارت میں خصوصی عدالت نے متنازع سیاستدان اور تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للیتا کو آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات کے معاملے میں مجرم قرار دیتے ہوئے چار برس قید کی سزا سنائی ہے۔

بنگلور کی عدالت کے فیصلے کے مطابق ان پر 100 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

جے للیتا ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی مجاز ہیں۔

سنیچر کو سنائے جانے والے اس فیصلے کے نتیجے میں اب جے للیتا کو تمل ناڈو کی وزارتِ اعلیٰ اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونا پڑے گا۔

اس فیصلے پر ریاست تمل ناڈو میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ریاست بھر میں ہڑتال کا سماں ہے۔

جے للیتا کو 18 برس تک چلنے والے اس مقدمے میں بےایمانی سے 66 کروڑ بھارتی روپے سے زیادہ کے اثاثے اور املاک بنانے کا قصور وار پایا گیا ہے ۔

اس مقدمے میں جے للیتا کے ساتھ ان کے تین ساتھیوں کو بھی چار سال قید کی سزا دی گئی ہے جبکہ ان پر دس کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد جے للیتا کی طبعیت خراب ہونے پر انھیں طبی معائنے کے لیے بنگلور جیل کے احاطے میں واقع ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

یہ مقدمہ تمل ناڈو کے انسداد بدعنوانی کے ادارے نے 1997 میں دائر کیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 1992 سے 1996 کے دوران اپنے بعض قریبی ساتیھوں کی مددد سے تقریباً 66 کروڑ روپے کے اثاثے بنائے۔

بھارت میں ’ویجیلینس‘ کے محکمے کا کہنا تھا کہ 1991 میں جب جے للیتا وزیر اعلی بنیں تھیں تو ان کے تمام اثاثوں کی مالیت تین کروڑ روپے تھی اور انہوں نے وزیر اعلی کے طور پر ماہانہ صرف ایک روپیہ ٹوکن تنخواہ لی تھی۔

وزیر اعلی بننے کے بعد ان کے پاس کئی بینک کھاتوں میں کروڑوں روپے کے علاوہ مختلف ناموں کی کمپنیاں، 30 کلو سونا ، ایک تفریحی مقام کے پاس ایک ہزار ایکڑ زمین اور 12 ہزار ساڑھیاں پائی گئی تھیں ۔

جے للیتا کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ ایک سیاسی سازش ہے۔

وہ بدعنوانی کے معاملے میں پہلے بھی جیل جا چکی ہیں۔ یہ مقدمہ اس وقت درج ہوا تھا جب وہ پہلی بار وزیر اعلی بنی تھیں۔ مئی 2011 میں انھوں نے تیسری بار تمل ناڈو کی وزارتِ اعلیٰ کا حلف لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالتی فیصلے کے بعد جے للیتا کے جذباتی حامی تمل ناڈو میں سڑکوں پر نکلے اور احتجاج کیا

سنیچر کو فیصلے کے وقت بنگلور میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور عدالت کے اردگرد پانچ ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات تھے جبکہ اس طرف آنے والے تمام راستے بھی بند کر دیے گئے تھے۔

جے للیتا 1980 کی دہائی میں سیاست میں آئیں اور اس سے پہلے وہ جنوبی بھارت کی فلموں کی مشہور اداکارہ تھیں۔

وہ سیاسی جماعت آل انڈیا این ڈی ایم کی سربراہ ہیں اور انھیں سزا ملنے کے بعد تشدد کے اندیشے کے پیشِ نظر تمل ناڈو کے کئی شہروں میں تجارتی مراکز اور بازار بند ہو گئے ہیں۔

اس فیصلے کے بعد جے للیتا کے جذباتی حامی تمل ناڈو میں سڑکوں پر نکلے ہیں اور انھوں نے اپوزیشن پارٹی ڈی ایم کے لیڈر ایم كروندھي اور بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کے گھروں پر حملے کیے ہیں۔

تمل ناڈو کے گورنر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام سے حالات پر قابو پانے کے لیے کہا ہے۔

جے للیتا تمل ناڈو کی ایک بااثر سیاست دان ہیں اور ان کی سزا سے ریاست کا سیاسی توازن بدل سکتا ہے۔ اس ریاست میں 2016 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔

کانگریس اور بی جے پی دونوں جماعتوں نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے واضح طور پر یہ پیغام ملتا ہے کہ قانوں کے سامنے ہر کوئی برابر ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ۔

اسی بارے میں