جے للیتا کی سیاسی زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماضی کی فلمی ہیروئین جے لیلتا اپنی سیاسی زندگی کے دوران بدعنوانی کے الزامات کا دفاع کرنے کے لیے زیادہ تر عدالتوں کے چکر لگاتی رہی ہیں

بدعنوانی کے جرم میں قید اور جرمانے کا سامنا کرنے والی جیارام جےللیتا بھارت کے ان مشہور مگر متنازع سیاستدانوں میں سے ہیں جن کی سیاسی زندگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔

ماضی کی فلمی ہیروئن جے للیتا آج ریاست تمل ناڈو کی اہم علاقائی سیاسی جماعت ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ کی سربراہ ہیں۔

وہ چار بار ریاست کی وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال چکی ہیں اور اب جبکہ انھیں بدعنوانی کا مجرم قرار دیا گیا ہے تو اس وقت بھی وہ اسی عہدے پر فائز ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ جے للیتا پر بدعنوانی کا الزام لگا ہو۔ وہ ماضی میں ایسے الزامات کا سامنا کرنے کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط سیاستدان بن کر ابھر چکی ہیں۔

تاہم نامہ نگاروں کے مطابق اس مرتبہ بدعنوانی کرنے پر چار برس کی قید کے بعد سیاسی میدان میں واپسی ان کے لیے اب تک کا سب سے مشکل چیلینج ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جے لیلتا کی جماعت کے سینکڑوں حامی ہیں جو دل و جان سے ان کی حمایت کرتے ہیں اور اس فیصلے کے بعد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے

جے للیتا کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے تمل ناڈو کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اسے بھارت کی اقتصادی طور پر بااثر ریاستوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔

سنہ 2009 میں ہونے والے انتخابات میں انھوں نے علاقائی جماعتوں اور کمیونسٹس کی بنائے ہوئی ایک گروہ کی حمایت کی جو بھارت کی دو اہم سیاسی جماعتوں کو چیلنج کرنے کے لیے ایک ’تیسری بڑی جماعت‘ کے طور پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

سنہ 2000 کے اکتوبر میں جے للیتا بدعنوامی کے ایک کیس میں قید کی سزا پانے کے بعد مختصر عرصے کے لیے قید بھی رہیں۔

ان پر ماضی میں اپنے حریفوں پر تشدد کروانے سے لیکر ٹیکس کے پیسے سے اپنے رشتہ داروں کی شاہانہ شادیاں کروانے کے الزامات لگ چکے ہیں۔

Image caption جے للیلتا کے مخالفین ان کے خلاف مظاہرے کرتے رہے ہیں اور ان پر متعدد الزامات لگاتے رہے ہیں

جے للیتا پر کچھ الزامات سننے میں شاید عجیب لگ سکتے ہیں جیسا کہ ایک الزام ہے کہ انھوں نے اپنے آڈیٹر پر غصہ میں آکر تشدد کیا تھا۔

1980 کی دہائی کے آخری سالوں میں جے للیتا کو شہرت ملی۔ اسے قبل وہ ایک مشہور اداکارہ تھیں جنھوں نے ایک سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔

جے للیتا قدرتی طور پرکشش تھیں اور ان کو سیاست میں سابق تمل فلموں کے مشہور اداکار اور وزیر اعلیٰ مردھر گوپالن رامچندر لیکر آئے، جن کے ساتھ جے للیتا نے کئی فلموں میں کام کیا۔

رامچندر کی موت کے بعد جے للیتا نے ان کی سیاسی جماعت کی قیادت سنبھالی اور وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ وہ دیہی علاقوں کےغریبوں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption جے للیتا عدالتی فیصلہ سننے کے لیے عدالت پہنچ رہی ہیں

جے للیتا کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذاتی مقبولیت میں اضافہ کرتی رہی ہیں اور تب سے ان کے شاہانہ طرزِ زندگی کے قصے انڈیا میں بہت مقبول ہیں اور ان کے کئی چاہنے والے اُن سے اپنی وفاداری کے دعوے عجیب طرح کی کارروائیوں کے ذریعے کرتے ہیں جیسا کہ گرم انگاروں پر چل کر یا اپنے خون کے ساتھ ان کی تصویر بنا کر۔

کئی مواقع پر ان کے وزراء ان کے قدموں میں سجدہ کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

جے للیتا پر بدعنوانی کے الزامات کے بعد ان کے گھر پر ایک پولیس کے چھاپے کے دوران پولیس کو ہیرے اور سونے کے زیورات کی بڑی تعداد ملی اس کے علاوہ پولیس کا کہنا تھا کہ انھیں 10000 ساڑھیاں اور 750 سے زائد جوتے بھی ملے۔

جےللیتا اپنی سیاسی زندگی کے دوران بدعنوانی کے الزامات کا دفاع کرنے کے لیے زیادہ تر عدالتوں کے چکر لگاتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں