دلت وزیر اعلیٰ کی پوجا کے بعد مندر کی دھلائی

تصویر کے کاپی رائٹ KALYAN KUMAR
Image caption جیتن رام مانجھی کا تعلق دلت ذات میں بھی سب سے نچلے طبقے سے ہے

بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے الزام لگایا ہے کہ ریاست کے ایک مندر میں ان کی پوجا کے بعد اس مندر کو دھو دیا گیا تھا۔

جیتن رام مانجھی کا تعلق دلت برادری سے ہے جسے معاشرے کے ذات پات کے نظام میں سب سے نیچی ذات تصور کیا جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ مانجھی نے ایک تقریب میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینے قبل ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران وہ برہمنوں کی اکثریت والے تھرہی گاؤں گئے تھے جہاں انھوں نے پرمیشوری مندر میں پوجا کی۔

انھوں نے بتایا کہ کہ ان کی کابینہ کے وزیر رام لکھن رمن نے انھیں بتایا کہ ان کے دورے کے بعد پجاریوں نے ’پورے مندر اور مورتیوں کو پوتر پانی سے دھو کر صاف کر دیا تھا۔‘

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ میں وہاں کسی کی درخواست پر گیا تھا: ’وہ لوگ جو اپنا کام کروانے کے کے لیے (احترام سے ) میرے پیر چھونے میں ہچکچاہٹ نہیں محسوس کرتے، وہ میرے لیے اس طرح کے جذبات رکھتے ہیں۔ آپ ہی بتائیے کہ یہ سب کیا ہے؟‘

اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مانجھی نے کوئی رپورٹ نہیں درج کرائی۔ پولیس نے بھی ابھی تک اپنی صوابدید پر کوئی رپورٹ درج نہیں کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بہار کے وزیر رام لکھن نے بتایا کہ ’جس پوجا کی بات وزیر اعلیٰ نے کی ہے اس وقت میں ان کے ساتھ پوجا میں موجود نہیں تھا۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ اس علاقے میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

جیتن رام مانجھی کا تعلق دلت ذات میں بھی سب سے نچلے طبقے سے ہے۔ اس ذات کے لوگ بہار کے غریب ترین لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ معاشرتی طور پر بھی انھیں زبردست تفریق اور اکثر ذلت آمیز برتاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال میں وزیر اعلیٰ مانجھی لنڈن اسکول آف اکنامکس کی دعوت پر برطانیہ گئے تھے۔ اس وقت ان کی ذات کو ہدف بنا کر سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں متعدد انتہائی ہتک آمیز بیانات پوسٹ کیے گئے تھے۔

بھارت میں ذات پات پر مبنی تفریق یا ہتک آمیز بیانات اور برتاؤ کے خلاف بڑے سخت قوانین موجود ہیں، لیکن معاشرے میں ذات پات کا نظام اب بھی موجود ہے اور سماجی زندگی میں انسانی رشتوں کا تعین اکثر اسی فرسودہ نظام کے تحت ہوتا ہے۔

اسی بارے میں