انڈیا: تیسری صنف کی پہلی نیوز اینکر

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پدمنی کہتی ہیں کہ وا خش ہیں کہ ان کو معاشرے میں قبول کیا جا رہا ہے۔

پدمنی پرکاش بھارت کی تیسری صنف کی نمائندہ ہیں جو ایک روزانہ نشر ہونے والے خبروں کے پروگرام کی اینکر بنی ہیں۔ جنوبی ریاست تامل ناڈو میں پدمنی کو کافی مقبولیت مل رہی ہے۔

پدمنی بھارت کے یوم آزادی پندرہ اگست سے کویمبٹور شہر میں تامل زبان کے چینل لوٹس ٹی وی کی خبروں کا پروگرام پیش کرتی ہیں۔

وہ اپنے نئے کام سے بہت خوش ہیں۔ نہ صرف اس لیے کیونکہ ان کا پروگرام پرائم ٹائم پر نشر ہوتا ہے بلکہ اس لیے بھی کیونکہ ان کی اور ان کی برادری کی دنیا ہی بدل گئی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’میں بہت خش ہوں، یہ پیغام پورے بھارت اور انٹرنیٹ پر چھا گیا ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق، بھارت میں تیسری صنف کی آبادی تقریباً بیس لاکھ ہے۔ لیکن یہ لوگ زیادہ تر غربت میں رہتے ہیں اور معاشرے میں لوگ ان کی صنف کی وجہ سے ان کے ساتھ رہنے سے گریز کرتے ہیں۔

یہ اپنی روزی روٹی زیادی تر گانے اور رقص، یا بھیک مانگ کر اور جسم فروشی کے ذریعے کماتے ہیں۔

حال ہی میں بھارت کے سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں تیسری صنف کو تسلیم کیا ہے۔

پدمنی کی زندگی اپنی برادری کے لوگوں سے کوئی اتنی مختلف نہیں گزری۔

وہ کہتی ہیں۔ ’میرا بچپن کافی تکلیف سے گزرا۔‘

ان کے اہل خانہ نے انھیں اپنانے سے انکار کر دیا اور پدمنی نے تیرہ سال کی عمر میں اپنا گھر چھوڑ دیا۔ انھوں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں کچھ لوگوں نے بچا لیا۔

انھوں نے کہا: ’جب میں نے گھر چھوڑا تو میں ہمیشہ سفر ہی کرتی رہی۔ پہلے میں نے کامرس پڑھنے کے لیے ایک یونورسٹی میں داخلہ لیا لیکن فیس نہ ادا کرنے کی وجہ سے دو سال بعد مجھے اپنا کورس چھوڑنا پڑا۔‘

لیکن پدمنی کا حوصلہ برقرار رہا۔ وہ کہتی ہیں: ’میں نے بھارتی کلاسیکی رقص ’بھارت ناتیم‘ سیکھا۔ میں تیسری صنف کے لیے منعقد کیے جانے والے خوبصورتی کے مقابلوں میں حصہ لیتی اور جیت بھی جاتی تھی۔ میں نے ایک ٹی وی سیریل میں بھی کام کیا.‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں تقریباً بیس لاکھ تیسری نصف آبادی رہتی ہے۔

لوٹس ٹی وی کا کہنا ہے کہ تیسری صنف کے نمائندے کو اپنے پروگرام میں شامل کرنے کا خیال پرواگرام کے پروڈیوسرز سنگیت کمار اور سراونا راماکمار کو آیا۔

کچھ ماہ پہلے یہ دونوں کام سے گھر لوٹ رہے تھے جب انھوں نے کچھ تیسری صنف کے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی ہوتے ہوئے دیکھی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ تیسری صنف کے خلاف منفی سماجی رویوں کو بدنا پڑے گا اور انھوں نے اس بات پر اپنی مینجمنٹ سے بھی بات چیت کی۔

کمار نے کہا:’ ہمارے چیئرمین سیلوا کمار نے ہمارے اس خیال کو قبول کر لیا اور پدمنی کو پروگرام پیش کرنے کا موقع دیا۔‘

روز تیسری صنف سے ہیں اورایک ٹاک شو کی میزبان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے نیٹ ورک سے پدمنی کی سفارش کی اور پھر انھوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ پدمنی بہت اچھا کام کر رہی ہے اور اس کا پروگرام بھی مقبول ہے۔‘

راماکمار کا کہنا تھا کہ ’روز نے ہمیں پدمنی سے ملوایا۔ پدمنی خبروں سے اچھی طرح واقف تھی اور ہم نے اسے دو ماہ کی آواز کی ٹریننگ دی‘۔

راماکمار اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے پروگرام کی میزبانی ایک تیسری صنف کی نمائندے سے اپنے چینل کی ریٹنگز بڑھانے کے لیے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کام انھوں نے تیسری صنف کے لوگوں کو معاشرے میں عزت دلانے کے لیے کیا۔

پدمنی کے پروگرام کا انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں نے خیر مقدم کیا ہے۔

کویمبٹور سے کارکن انجلی اجیت کہتی ہیں۔’پدمنی کام تیسری صنف کو نظر انداز کرنے کی تلخ حقیقت کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے۔ وہ سماجی طور پر قابل قبول نہیں ہیں، اس لیے وہ اپنے ہنر کو ظاہر نہیں کر سکتے۔‘

سامعین بھی پدمنی کے کام سے خوش لگتے ہیں۔

ہومیوپیتھک ڈاکٹر یو سریکمار نے کہا: ’پدمنی کی کارکردگی بہت اچھی ہے۔ وہ نہ صرف ایک خاتون لگتی ہیں بلکہ ان کی آواز، تلفظ اور ان کی پریزینٹیشن بھی بہت اچھی ہے۔‘

پدمنی کہتی ہیں کہ وہ خوش ہیں کہ ان کو معاشرے میں قبول کیا جا رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’اب لوگ مجھے عزت سے دیکھتے ہیں۔ میں بہت خوش ہوں۔ ایسے مواقع تیسری صنف کے اور لوگوں کو بھی ملنے چاہیے۔‘