لڑکیوں کے جینز پہننے کے خلاف بیان پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت میں گذشتہ ماہ نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے جینز پہننے پر حملوں کی دھمکی دی تھی

بھارت میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے معروف گلوکار کے جے یسودس کے خواتین کے بارے میں بیان پر شدید تنقید کی ہے۔

ریاست کیرالا کے گلوکار کے جے یسودس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ خواتین کا جینز پہننا بھارت کی ثقافت کے خلاف ہے اور یہ قابل اعتراض رویے پر اکساتا ہے۔

کے جے یسودس کلاسیکل موسیقی اور بھجن کے مقبول گلوکار ہیں ہیں اور انھیں اعلیٰ اعزازت سے نوازا گیا ہے۔

تاہم ان کے خواتین کے جینز پہننے پر اعتراض کرنے سے کئی تنظیموں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

ریاست کے دارالحکومت ترواننت میں یسودس نے سواتی ترینوال کالج میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’خواتین کو جینز نہیں پہننی چاہیے اور دوسروں کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ آپ کو مناسب لباس پہننا چاہیے اور رویہ مردوں کی طرح نہیں ہونا چاہیے۔‘

’یہ لوگوں کو متوجہ ہونے کی ترغیب دیتا ہے، دوسروں کو متوجہ کرنے کے لیے ایسا نہ کریں اور دوسروں کو قابل اعتراض رویے پر نہ اکسایا جائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’جس پر بھی پردہ ہونا چاہیے وہ ڈھکی ہونی چاہیے، جو چیز ڈھکی ہوئی ہو ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور یہ ہماری ثقافت ہے۔‘

ریاست میں حکمراں جماعت کانگریس اور حزب اختلاف کی جماعت کیمونسٹ پارٹی کے خواتین ارکان نے گلوکار کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیان کو واپس لیں اور اس پر معافی مانگیں۔

کانگریس جماعت کی رکن بندو کرشنا نے کہا ہے کہ گلوکار کا بیان ناپختہ اور بیہودہ ہے جبکہ کیمونسٹ پارٹی کے رکن اسمبلی ٹی این سیما نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان گمراہ کن ہے اور ریاست کے جنسی تفریق کے خلاف کامیابیوں کی توہین ہے۔

اسی بارے میں