آپ سڑک پر پیر رکھتے ہوئے ڈریں گے!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مودی دہلی پولیس کے ایک تھانے میں پہنچے تو گندگی دیکھ کر انہوں نے جھاڑو اٹھائی اور کام پر لگ گئے

آپ سڑکوں پر پیر رکھتے ہوئے ڈریں گے!

اب بس کچھ ہی دنوں میں ہندوستان کی تصویر بدلنے والی ہے۔ آپ باہر کے کسی ملک سے گھوم پھر کر وطن لوٹیں گے تو تھوڑا چکرا ضرور چائیں گے۔

ارے! یہ میں کہاں آگیا، جگہ تو جانی پہچانی ہے لیکن اتنی صاف ستھری، یہ ہندوستان تو ہو نہیں سکتا، پائلٹ نے جہاز کسی دوسرے ملک میں تو نہیں اتار دیا؟

لیکن جب آپ کی نظر ٹی وی یا اخبارات پر پڑے گی تو آپ کو ہر جگہ نریندر مودی کی تصویریں نظر آئیں گی اور آپ سمجھ جائیں گے کہ جگہ تو وہی پرانی ہے بس وقت اور حالات ذرا بدل گئے ہیں۔

آپ گھر سے باہر نکلیں تے تو زمین پر قدم رکھتے ہوئے ڈریں گے، سڑکیں اتنی صاف ستھری جو ہوں گی۔ آپ سوچیں گے کہ کاش، ہمارا گھر بھی ایسا ہی ہوتا۔

لیکن یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آپ کے گھروں کے علاوہ باقی پورے ہندوستان کو صاف کرنے کا عہد کیا ہے، گھر آپ کو خود صاف کرنا ہوگا۔ لیکن یہ پیغام ابھی سب تک پہنچا نہیں ہے۔

’صاف ہندوستان‘ کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے جب مودی دہلی پولیس کے ایک تھانے میں پہنچے تو گندگی دیکھ کر انہوں نے جھاڑو اٹھائی اور کام پر لگ گئے۔

اس وقت تھانے کا زیادہ تر عملہ قریب ہی دلتوں کی ایک کالونی میں سکیورٹی کی ڈیوٹی پر تعینات تھا کیونکہ وزیر اعظم کو پہلے وہاں جھاڑو لگانا تھی! وہ لوگ بھی تھانے میں ہوتے تو کام جلدی ہو جاتا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم سے کوئی مسئلہ چھپا نہیں ہے۔ نامعلوم کیسے لیکن انہیں معلوم تھا کہ پولیس کے تھانوں کو صفائی کی سخت ضرورت ہے۔

اگلا نمبر شاید انکم ٹیکس، کسٹم اور ایکسائز کے محکموں کا ہوسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں اس وقت ملک گیر سطح پر صفائی کی مہم چل رہی ہے

لیکن پولیس والوں کو بھی کم مت سمجھیے۔ مودی کے جانے کے بعد ایک پولیس والے نے کہا کہ وہ (باہر سے ہی صفائی کرکے چلے گئے) تھانے کی عمارت میں نہیں گئے۔ شاید اس کی شکایت یہ تھی کہ مسٹر مودی عمارت گندی ہی چھوڑ گئے!

اور اخبار والے؟ کوئی حیرت نہیں کہ مودی ان سے بچ کر رہی رہتے ہیں۔ ایک اخبار نےگندگی کی تین تصویریں شائع کرتے ہوئے انھیں مشورہ دیا کہ انہیں دہلی کے ان مقامات کا دورہ کرنا چاہیے! جیسے یہ کوئی ٹوئرسٹ سپاٹ ہوں۔

سر، وزیر اعظم نے علامتاً صفائی کی تھی، یہ مت سمجھیے کہ یہ اب ان کی فل ٹائم ذمہ داری ہے، انہیں اور بھی کام ہوسکتے ہیں۔

ایک اور اخبار نے لکھا کہ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کی کوٹھی کے پیچھے کوڑے کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔

اب کیا جواب دیجیے؟ وزیر اعظم نے پورے ملک کو چمکانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن اپنے مسائل تو کانگریس کو خود ہی حل کرنے چاہییں۔

آپ نے تصویروں میں دیکھا ہی ہوگا کہ مہم میں پوری کابینہ نے بھی شرکت کی۔

تمام وفاقی وزیر سج دھج کر ہاتھ میں جھاڑو اٹھائے پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے اور جس انداز میں انہوں نے جھاڑو اٹھا رکھی تھی، اس سے صاف ظاہر تھا کہ اور کوئی اختیار انہوں نے ماتحت عملے کو دیا ہو یا نہیں، صفائی کا ضرور دے رکھا ہے!

لیکن آپ کو سب سے زیادہ حیرت خارجہ سیکریٹری سجاتا سنگھ کو دیکھ کر ہوتی جو ساؤتھ بلاک کے باہر جھاڑو لگا رہی تھیں! ساؤتھ بلاک سے ملک کی حکومت چلتی ہے، وہاں تو کوڑا صاف کرنے کے لیے انہیں پہلے کوڑا ڈلوانا پڑا ہوگا!

لیکن جب حکومت کوئی عزم کر لیتی ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔

سڑکیں تو صاف ہو جائیں گی لیکن ہندوستانیوں کو اس کی ایک بڑی قیمت ادا کرنا پڑےگی۔ وہ جب جہاں چاہیں گے تھوک نہیں سکیں گے، سڑکوں پر پیشاب کرنے سے پہلے اس کے مضمرات پر غور کریں گے۔۔۔یہ وہ جہموری اور شہری ’حقوق‘ ہیں جن سے جلدی ہی آپ یا تو رضاکارانہ طور پر دست برادر ہو جائیں یا آپ کو محروم کر دیا جائے گا۔

لیکن اس ملک میں جمہوریت کی جڑیں بہت مضبوط ہیں، عوام اپنے حقوق پر حملہ آسانی سے برداشت نہیں کرتے!

ان کی پریشانی بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ دلی کی میٹرو میں آپ سفر کریں تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد یہ اعلان ہوتا رہتا ہے کہ ٹرین کے اندر اور پلیٹ فارم پر تھوکنا منع ہے۔

اب جائیں تو جائیں کہاں؟

اسی بارے میں