حکومت کے کام کاج میں آر ایس ایس کا دخل کتنا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آر ایس ایس کے رضاکار ایک عرصے سے ہندو نظریات کا حامل ہندوستان کے لیے سرگرم ہیں

بھارت میں جب سے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت مرکز میں آئی ہے اس وقت سے یہ سوال اٹھایا جانے لگا ہے کہ کیا اب حکومت کے کام کاج میں آر ایس ایس (سنگھ) کا دخل بڑھ جائے گا؟

سنگھ اور بی جے پی دونوں اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔

این ڈی اے کی سنہ 2004 میں شکست کے بعد آر ایس ایس یا سنگھ پورے دس برس تک سیاسی بياباں میں نظر آیا۔

لیکن سنہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں سنگھ کے سب سے قابل رضاکار اور سابق پرچارک نریندر دامودرداس مودی کی کامیابی کے بعد سے اقتدار کی باگ ڈور ایک بار پھر سے آر ایس ایس کے زیر اثر نظر آتی نظر آ رہی ہے۔

لیکن اس بار سنگھ نے اس دستے یا لگام کو اپنے ہاتھوں میں لینے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

آر ایس ایس نے اقتدار پر قابض ہونے کی جلدبازی سنہ 1998 میں دکھائی تھی، جب سنگھ کے ایک دوسرے پرانے رضاکار اٹل بہاری واجپئی نے اتحادی جماعتوں کی مدد سے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کی تقریر کو دوردرشن پر براہ راست نشر کیے جانے پر بہت سے حلقوں سے سوال اٹھائے گئے ہیں

اس جلدبازی کی وجہ آر ایس ایس اور واجپئی حکومت کے درمیان تقریبًا روزانہ اختلاف ہوتا رہا، گھر کے اندر ہی نہیں بلکہ سڑکوں اور کھلے میدانوں میں بھی۔

وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں نے واجپئی کے لیے چین سے حکومت چلانا مشکل کر دیا تھا۔

آر ایس ایس نے دیسی بیداری فورم کے نام کا ایک دوسری تنظیم میدان میں اتار دی تھی جو بی جے پی کے لیے بے رحم اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی تھی اور واجپئی کی پالیسیوں کو ’سنگھ مخالف‘ قرار دے رہی تھی۔

بہر حال سنگھ کے اندر رسائی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ آر ایس ایس کی جانب سے نریندر مودی کو فی الحال کوئی چیلنج نہیں ہے کیونکہ سنگھ پہلے کے مقابلے زیادہ سمجھدار اور ذمےدار ہوا ہے۔

اس کی ایک واضح مثال تین اکتوبر کو ناگپور میں سامنے آئی جب پہلی بار سنگھ کے کسی سربراہ کی تقریر دوردرشن سے براہ راست نشرکی گئي۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی بھی سنگھ کے تربیت یافتہ ہیں

آر ایس ایس کے سربراہ مونن بھاگوت نے اس تقریر میں مرکزی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے موہن بھاگوت کی۔

سنگھ کو یہ اچھی طرح احساس ہو چکا ہے کہ جس پارٹی کو اقتدار میں لانے میں اس کے رضاکار جی جان لگا دیتے ہیں اسی حکومت کی قبر کھودنا از خود سیاسی ویرانے کے ٹکٹ کٹوانے جیسا ہوگا۔

سنگھ کو بہت قریب سے جاننے والے سینیئر صحافی اور ’یتھاوت‘ میگزین کے مدیر رام بہادر رائے کا خیال ہے کہ سنگھ اور نریندر مودی کے درمیان کوئی ابہام نہیں ہے۔

اس لیے اس بار نریندر مودی وزیر اعظم کی حیثیت سے جب لال قلعے فصیل سے ’کم، میک ان انڈیا‘ کہہ کر غیر ملکی کمپنیوں کو بھارت میں آنے اور صنعت لگانے کی دعوت دیتے ہیں تو کسی دیسی بیداری فورم کی جبین پرشکن نہیں ہوئی۔

انتخابی مہم کے دوران سنگھ کے ایک سینیئر اہلکار رام مادھو نے بھی کہا تھا کہ ’اقتصادی امور میں سنگھ بنیاد پرست نہیں ہے۔ یہ حکومت کو طے کرنا ہے کہ وہ کس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر کے متعلق آئین کی شق پر پر سنگھ نرمی کا مظاہرہ کررہا ہے

تو کیا سنگھ اپنے مسئلے چھوڑ رہا ہے؟

اگر اٹل بہاری واجپئی کے زمانے میں سنگھ اور اس سے منسلک تنظیموں کے رویوں کا آج سے مقابلہ کیا جائے تو ایسا لگ سکتا ہے کہ آر ایس ایس کئی مسائل پر اب سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی غیر ملکی صنعت کاروں کو بھارت آنے کی ’بے ہچک پیش کش کر سکتے ہیں۔ انھیں یہ بھروسہ ہے کہ سنگھ اس پر ظاہری طور پر اعتراض نہیں کرے گا۔‘

وشو ہندو پریشد کے اشوک سنگھل اگرچہ اب بھی رام مندر بنائے جانے کی بات کہہ دیتے ہوں لیکن ایسا نہیں لگتا کہ اس معاملے پر آر ایس ایس اب کوئی تحریک شروع کرنے والی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP.PTI
Image caption واجپئی حکومت کو آر ایس ایس سے سخت مخالفت کا سامنا رہا تھا

اسی طرح جموں و کشمیر کو بھارتی یونین میں شامل رکھنے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے معاملے میں بھی کچھ وقت کے لیے ہی سہی، سنگھ نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔

حالانکہ پہلے سنگھ کا منصوبہ تھا کہ نئی حکومت کے آتے ہی اس معاملے پر عام بحث کی شروعات کی جائے۔

لیکن اب سنگھ اس معاملے پر لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے اور وہ ان سوالات پر مصر نہیں ہے، کم از کم ان مسائل کو وہ فورا اپنی ناک کا مسئلہ نہیں بنا رہی ہے۔

بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سنگھ ایسا اس لیے نہیں کر رہا ہے کیونکہ اقتدار کی جو کشتی اسے پورے دس سال بعد ملی ہے، اسے وہ ڈبونا نہیں چاہتا۔

اسی بارے میں