’شوہر مرگیا، میں تو زندہ ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption 58 خواتین کلکتہ میں ’درگا پوجا‘ کے میلے میں شرکت کرنے کے لیے ورنداون اور وارانسی شمالی شہروں سے آئیں

بھارت میں ہزاروں بیوائیں اپنے سسرال والوں کی بد سلوکی کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے کولکتہ پہنچ چکی ہیں۔

ان خواتین کو ان کے شوہروں کے مرنے کے بعد ان کےگھروں سے نکال دیا جاتا ہے۔ بی بی سی کے راہول ٹنڈن ان خواتین کی کہانیاں سننے کولکتہ پہنچے۔

اناپرنا شرما کچھ خواتین کے ساتھ کولکتہ کی سڑکوں پر چل رہی ہیں۔

یہ خواتین آپس میں ہنسی مذاق کر رہی ہیں، کچھ نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

آپ کو ایسے مناظر کسی بھی بھارتی شہر میں ملیں گے۔ لیکن یہ خواتین کا کوئی معمولی گروہ نہیں ہے۔ یہ خواتین وہ بیوائیں ہیں جن کو معاشرہ قبول نہیں کرتا اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی لوگوں کی نظروں سے دور ہی گزاریں۔

اناپرنا کے سوا ان سب نے روایتی سادہ سفید ساڑیاں پہنی ہوئی ہیں۔ اناپرنا نے ایک نیلا لباس پہنا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے گلے میں موتیوں کا ہار اور کانوں میں چمکتے ہوئے موتیوں کی بالیاں بھی پہنی ہوئی ہیں۔

40 برس کی عمر کے آس پاس اناپرنا کہتی ہیں کہ وہ ’جدید بھارتی بیوہ‘ کے چہرے کی نمائندگی کرنا چاہتی ہیں ۔

بھارت میں اناپرنا کی کہانی عام ہے۔ ان کے شوہر کی موت کے بعد سسرال والوں نے انھیں گھر سے نکال دیا۔ سسرال والوں کا خیال تھا کہ اناپرنا ان کے لیے گھر کے لیے نحوست لے کر آئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار بھی اناپرنا کو ہی ٹھہراتے ہیں۔

اس کے بعد اناپرنا اپنے والدین کے گھر لوٹ گئیں، لیکن جب وہ بھی انتقال کر گئے تو ان کے پاس وراناسی شہر کے ایک آشرم میں رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اناپرنا بیواؤں کےلیے روایتی سادے سفید ساڑیاں پہنے سے انکار کرتی ہیں

لیکن کئی بھارتی بیواؤں کے برعکس انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ معاشرے سے الگ تھلگ نہیں رہیں گی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی باقی زندگی میں اپنے شوہر کی موت سے نہیں پہچانی جائیں گی۔ بلکہ وہ اب استانی بننے کے لیے تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’پرانے زمانے میں بیواؤں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ معاشرے میں ایک خاص طریقے سے رہیں۔ لیکن میں ایسے کیوں کروں؟‘

وہ مـزید کہتی ہیں: ’میں سفید ساڑھی پہن کر اپنی پوری زندگی چھپ کر نہیں گزارنا چاہتی۔ اگر میرا شوہر انتقال کر جاتا ہے تواس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں بھی اپنی زندگی ختم کر دوں۔‘

یہاں پر موجود کئی بیواؤوں کے جذبات اناپرنا سے ملتے جلتے ہیں۔

اناپرنا 58 خواتین کے ساتھ کولکتہ میں ’دُرگا پوجا‘ کے تہوار میں شرکت کرنے کے لیے ورنداون اور وارانسی کے شمالی شہروں سے آئی ہیں۔

ان خواتین نے کبھی سوچا نہیں ہوگا کہ وہ اپنے شہر یعنی کولکتہ میں واپس لوٹ سکیں گی۔ روایت کے مطابق جب بیوائیں ان شہروں کو چھوڑتی ہیں تو واپس کم ہی لوٹ سکتی ہیں۔

Image caption کئی بیواؤں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی واپس اپنے شہر کلکتہ آ پائیں گی

اس لیے ان کا یہ سفر محض جذباتی ہی نہیں بلکہ رواج کے خلاف بھی ہے۔ اور یہ سب خواتین اس سفر کو یادگار ترین بنانا چاہتی ہیں۔

ان میں سے بیشتر خواتین کی عمریں 60 برس سے زیادہ ہیں، لیکن ان میں بھر پور توانائی ہے اور میرے لیے ان کے ساتھ قدم ملا کر چلنا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔

ان میں سے ایک کہتی ہیں: ’میں ان سڑکوں کے چپے چپے پر چلنا چاہتی ہوں۔ میں اس شہر میں ملنے والی ہر مٹھائی چکھنا چاہتی ہوں اور ٹرام پر سیر بھی کرنا چاہتی ہوں۔‘

ایک اندازے کے مطابق ورنداون میں 20 ہزار بیوائیں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وہاں اس لیے رہنا جاتی ہیں کیونکہ ان کا اور کوئی سہارا نہیں ہے اور اس لیے بھی کہ اس شہر میں ان کے ہندو دیوتا کرشنا رہتے تھے۔

ان شہروں میں رہنے والی بیوائیں زیادہ تر مغربی بنگال سے آتی ہیں۔ یہ اپنی زندگی بھجن گا کر اور بھیک مانگ کر گزار دیتی ہیں۔ معاشرے اور یہاں تک کہ اپنے رشتہ داروں کی طرف سے آنکھیں پھیر لینے کے بعد پر ان کی جینے کی تمنا ختم ہو جاتی ہے۔

لیکن ان خواتین کو یہاں لانے والی تنظیم ’سلابھ انٹرنیشنل‘ کی رہنما ونیتا ورما کہتی ہیں کے اس قسم کے دورے ان خواتین کو پھر سے جینا سکھاتے ہیں۔

ونیتا کہتی ہیں: ’جب یہ خواتین کولکتہ کے ہاؤڑہ سٹیشن کی ریل گاڑی سے اتریں تو دیگر مسافر رک کر ان کے پاؤں چھو رہے تھے کیونکہ یہ خواتین ان کو ان کی دادی اور نانیوں کی یاد دلا رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بیوائیں ’درگا پوجا‘ کے میلے میں

یہ لمحہ ان خواتین کے لیے یقیناً انتہائی جذباتی تھا کیونکہ ان کو زیادہ تر بدقسمتی کی نشانی سمجھ کر رشتہ داروں سے دور ہی رہنا پڑتا ہے۔ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایک ایسا دن دیکھیں گی جس میں معاشرہ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔

لیکن تبدیلی لانا آسان نہیں ہے۔ یہاں کئی خواتین ایسی بھی ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتیں۔ ان میں سے صرف چند ہی خواتین ہی ایسی ہیں جو اپنے بیٹوں کو اس زیادتی کا ذمہ دار سمجھتی ہیں۔

اراتی ناتھ 65 برس کی ہیں اور ان کی پیدائش کولکتہ میں ہوئی تھی۔ ان کی شادی صرف 15 برس کی عمر میں کر دی گئی اور پانچ سال قبل انھیں ان کے گھر سے نکال دیا گیا۔

وہ کہتی ہیں: ’میرے بیٹے میرے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے لیکن شادی کرنے کے بعد وہ بدل گئے۔ میری بہوئیں فساد کی جڑ ہیں۔ میں کبھی واپس نہیں جا سکتی۔‘

کچھ بڑی عمر کی بیواؤں کا کہنا ہے کہ اپنے گھروں کو چھوڑنا ان کا فرض بنتا تھا اور وہ اپنے اہل خانہ پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھیں۔ کچھ اور خواتین مجھے بتاتی ہیں کہ بیٹے نہ ہونے کی وجہ سے ان کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔

میں نے ویل چیئر پر بیٹھی ہوئی کنکلتا ادھیکاری سے بھی بات کی۔ ان کے شوہر کوئی اولاد پیدا ہونے سے پہلے ہی انتقال کرگئے اور یہ آج 70 سال کے بعد اپنے شہر لوٹی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption کنکلتا ادھکاری کے شوہر ان کی اولاد پیدا ہونے سے پہلے ہی انتقال کرگئے اور یہ اپنے شہر 70 سال کے بعد لوٹی ہیں

یہ بزرگ بیوہ پہلے تو کولکتہ نہیں آنا چاہتی تھیں لیکن اب وہ بہت خوش ہیں کہ وہ اپنے گھر واپس لوٹ آئی ہیں۔ ان کو بہت سے رشتہ دار ملنے آئے۔ پہلے ان کا بھتیجا، پھر ان کا پورا خاندان۔ وہ اپنے پڑ پوتے، پڑ پوتیوں سے بھی ملیں۔ ان کی 25 برس کی عمر کی پڑ پوتی بیساکھی ادھیکاری کی آنکھوں میں ان کو گلے لگاتے وقت آنسو آ گئے۔

بیساکھی نے مجھے سسکیاں لیتے ہوئے بتایا: ’میں ان کو مل کر بہت خوش ہوں۔ اگر وہ کچھ دن پہلے آ سکتیں تو وہ اپنی بہن سے بھی مل لیتیں جو اب مر گئی ہیں۔‘

بیساکھی سمجھ نہیں پا رہی ہیں کہ ان کی پڑ خالہ کو اپنے گھر سے کیوں نکالا گیا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں ایسا کبھی نہ کرتی۔ اگر ہم اپنے بزرگوں کا خیال نہیں رکھیں گے تو مستقبل میں ہمارے بچے بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے۔‘

یہ سن کر دوسری بیوائیں مسکرانے لگیں اور ایک نے کہا: ’کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو ہمارے ساتھ ہوا۔‘

اسی بارے میں