’پاکستان بھارت مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بان کی مون نے انسانی جانوں کے ضیاع اور شہریوں کی نقل مکانی پر افسوس کا اظہار کیا ہے

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے بان کی مون کی جانب سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے ’کشمیر میں امن اور استحکام کے لیے طویل المدت حل تلاش کرنا چاہیے۔‘

ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے دونوں جانب انسانی جانوں کے ضیاع اور شہریوں کی نقل مکانی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر کشمیر میں ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو اس کا ’بھرپور جواب‘ دیا جائے گا۔

ادھر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دو ایٹمی ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔

پاک سرحد پر فائرنگ، قومی سلامتی کا اجلاس طلب

’ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں جاری‘

’ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے تازہ خلاف ورزیاں‘

بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے دارالحکومت دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حملے جاری رہے تو بھارت انھیں پاکستان کے لیے ’ناقابلِ برداشت‘ بنا دے گا۔

ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس میں ابھی تک 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بھارتی شہری اور 11 پاکستانی شامل ہیں۔

سرحد پر کئی دنوں سے کشیدگی جاری ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگا رہے ہیں.

ارون جیٹلی نے کہا: ’اگر سرحدوں پر پاکستان امن چاہتا ہے تو اسے بلا اشتعال فائرنگ روکنا ہوگی۔‘

جب بھارتی وزیر دفاع سے پاکستان کی جانب سے شیلنگ کا وجہ دریافت کی گئی تو ان کا کہنا تھا: ’پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کی کشیدگی کو اندرونی اور بیرونی سطح پر نوٹس کروایا جائے۔‘

ارون جیٹلی نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پر جاری گولہ باری کا مقصد پاکستان کی طرف سے دراندازی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ سیلابوں کے بعد بھارتی فوج نے بڑی تعداد میں دراندازوں کو ہلاک کیا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع سے جب پوچھا گیا کہ اب کیوں شیلنگ ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا: ’اب کیوں؟ یہ سوال مجھ سے نہیں سرحد پار سے پوچھیں۔‘

دوسری جانب کانگریس نے اس معاملے پر وزیر اعظم سے جواب مانگا ہے۔ کانگریس جماعت کے رہنما آنند شرما نے کہا ہے کہ وزیر اعظم انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور ان کا دھیان الیکشن جیتنے پر ہے۔

جمعرات کو ایک بیان میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہم دو ایٹمی ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔‘

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دے۔

دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دوطرفہ مسائل کے حل کی غرض سے مزید مذاکرات کے لیے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کی کشمیر پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں