نیپال: بیٹے کے قتل کے خلاف ایک سال سے جاری بھوک ہڑتال ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیپال میں مزاحمتی تحریک کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے تھے ( فائل فوٹو)

نیپال میں ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے قتل کی تحقیقات نہ ہونے پر احتجاجاً تین سو پچپن دن سے جاری بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

گناگا مایہ اور ان کے شوہر اندن پرساد چاہتے تھے کہ حکومت ان کے بیٹے کرشنا پرساد کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے زیادہ اقدامات کریں۔

مبینہ طور پر ان کے بیٹے کے قاتل سابق ماؤ باغی گروپ کے رکن ہیں اور اس وقت یہ گروپ پارلیمان میں موجود ہے۔

گناگا مایہ کے شوہرفاقہ کشی کے دوران گذشتہ ماہ انتقال کرگئے تھے تاہم گنگا کو اب حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے بیٹے کے قتل کے ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت نے گنگا مایہ کے طبی اور قانونی چارہ جوئی پر اٹھنے والے اخرجات کو ادا کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گنگا مایہ اور ان کے شوہر کی بھوک ہڑتال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے حقائق اور مصالحت کے لیے قائم کمیشن ملک میں ماؤ باغیوں کی مزاحمتی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد اور ہزاروں گمشدگیوں کے واقعات کے تعین کے لیے پیش رفت نہیں کر سکا ہے۔

اسی بارے میں