عید نہیں منائی تو دیوالی کیا منائیں گے!

Image caption ہم لوگوں نے عید نہیں منائی تو دیوالی منا کر کیا کریں گے: سیلاب سے متاثرہ عبدالرشید

عبدالرشید بٹ اور ان کے دو بھائیوں کے مکان حالیہ سیلاب کے دوران منہدم ہو گئے تھے۔

تینوں بھائیوں کی کل ملا کر 11 بیٹیاں ہیں۔ یہ سب اُن 24 خاندانوں کے ہمراہ سری نگر میں وزیرِ اعلیٰ عمرعبداللہ کی رہائش گاہ کے قریب راج باغ کی سڑک پر عارضی خیموں میں رہتے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو کشمیریوں کے ساتھ دیوالی منائیں گے۔ اسی وجہ سے وادی میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں اور شاہراہوں کی صفائی کی جا رہی ہے۔

لیکن عبدالرشید کہتے ہیں: ’ہم لوگوں نے عید نہیں منائی تو دیوالی منا کر کیا کریں گے۔ اگر واقعی مودی صاحب مدد کرنا چاہتے ہیں تو اس دورے پر خرچ ہونے والا سرمایہ ہمارے گھروں کی بحالی پر صرف کریں۔‘

راج باغ کیمپ جیسے تین سو سے زائد کیمپ سری نگر کے گرد و نواح میں ہیں، جہاں لوگ خیموں میں بجلی، پانی یا بیت الخلا کی سہولت کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ آٹو رکشا چلانے والے بلال احمد جو سیالاب متاثرین میں شامل ہیں، کہتے ہیں:

’ہم کئی ہفتوں سے اندھیرے میں کھانا کھاتے ہیں۔ مودی صاحب دیوالی منانے آ رہے ہیں، اچھی بات ہے۔ لیکن ہم کو پھر بھی اندھیرے میں ہی کھانا کھانا ہوگا۔‘

محمد عبداللہ کھوسہ کا گھر اور اسبابِ خانہ سیلاب میں تباہ ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

’کاش مودی صاحب کو میرے پاس آنے دیا جائے۔ میں ان کو بتاتا کہ عید یا دیوالی کی باتیں کرنا کیا ہوتا ہے۔ ہم لوگ مر رہے ہیں۔ ہمیں ہماری زندگی لوٹا دو، وہ بڑا تحفہ ہوگا۔‘

Image caption سری نگر کے گردونواح میں راج باغ کیمپ جیسے تین سو سے زائد کیمپ ہیں

نریندر مودی کے سیاسی مخالفین نے تو دیوالی پر ان کے کشمیر آنے کے فیصلہ پر محتاط لہجہ اپنایا ہے، لیکن فیس بک اور ٹوٹر پر لوگوں نے ان کی جم کر تنقید کی۔ جبکہ سیلاب کے متاثرین ان سے معنی خیز مدد چاہتے ہیں۔

نوجوان شاداب خان ایک مقامی رضاکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں نریندر مودی کے ایسے اعلانات کے پیچھے سیاست کا علم نہیں ہے، لیکن انھیں لگتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت کا کوئی وزیراعظم کشمیر کے بارے میں سنجیدہ ہے۔

شاداب خان کا کہنا ہے: ’نریندر مودی کا دیوالی کا تحفہ یہی ہوگا کہ ہوائی اڈے پر ہمارا جو پانچ ہزار ٹن سامان حکومت نے ضبط کر رکھا ہے اسے چھڑوا دیں، تاکہ وہ مستحق لوگوں میں تقسیم ہو سکے۔‘

قابل ذکر بات ہے کہ حکومت نے بھارتی شہروں سے کشمیر پہنچنے والے امدادی سازوسامان کی تقسیم پر پابندی عائد کر دی ہے، اور ہزاروں ٹن سامان ایئرپورٹ پر سڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ ستمبر میں تباہ کن سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا تھا جس میں تین سو لوگ مارے گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست میں تجارت اور تعمیراتی ڈھانچے کو ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

کشمیر اور جموں خطوں سے تین دریا، جہلم، سندھ اور چناب بہتے ہیں۔ تینوں دریاؤں میں ایک ساتھ طغیانی آئی تھی۔ کشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول اور باقاعدہ سرحد کے قریبی علاقوں میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی تھی۔

اسی بارے میں