’نئے مورچوں کی تعمیر،‘ سرحد پر کشیدگی میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat
Image caption گذشتہ دنوں جموں کی سرحدوں پر دونوں فوجوں نے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کی جس میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں

پاکستانی دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی سرحدی افواج نے جمعرات کی صبح سیالکوٹ کی سرحد پر گولہ باری کی آڑ لے کر نئے فوجی مورچے بنانے کی کوشش کی ہے جبکہ دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سیاچین پر بھارتی فوجی چوکیوں کا دورہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے مطابق بھارتی افواج نے ورکنگ باؤنڈری کے قریب مورچے تعمیر کرنے کے لیے پاکستانی فوجی چوکیوں پر فائرنگ کی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ورکنگ باؤنڈری کے پانچ سو میٹر کی حدود میں نئے مورچے تعمیر نہیں کیے جا سکتے: ’اسی لیے پاکستانی افواج نے بھی جوابی فائرنگ کی اور بھارتی فوجوں کو نئے مورچے تعمیر کرنے سے روک دیا۔‘

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی افواج نے سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر متعدد مقامات پر مورچے بنانے کی کوشش کی جسے پاکستان کی جانب سے فائرنگ کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اس ’بھارتی اشتعال انگیزی کا محتاط جواب دیا ہے۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج کے برعکس پاکستان کو سرحد کے اس پار رہنے والے کشمیروں کی جان و مال کا تحفظ عزیز ہے اس لیے پاکستان نے بھارتی فائرنگ کا بہت محتاط جواب دیا ہے۔

پاکستان اور بھارت سرحد پر گذشتہ چند ہفتوں سے گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے جس میں متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہے۔

اس کشیدگی کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان طے شدہ مذاکرات بھی منسوخ کر دیے گئے تھے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے اس کشیدگی میں اضافے کی ذمہ داری بھارت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے بھی اٹھایا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دفتر خارجہ ان اس مسئلے پر مختلف ملکوں کے سفیروں کو اسلام آباد میں بریفنگز دی ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط بھی لکھا گیا ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا کے بلند ترین میدان جنگ کہلانے والے متنازع سیاچن گلیشیئر کا دورہ کیا ہے جبکہ بھارت کے فوجی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ جموں کے بعض سرحدی سیکٹروں پر جمعرات کی صبح پاکستانی افواج نے بھارتی تنصیبات پر فائرنگ کی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے سکیورٹی حکام نے بھی شکر گڑھ سیکٹر پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔

سرحدوں پر تازہ فائرنگ کے واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیر میں موجود تھے۔

وزیراعظم نریندر مودی نےاعلان کیا تھا کہ وہ دیوالی کشمیرمیں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ منائیں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی جمعرات کی صبح کشمیر پہنچے اور یہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے انھوں نے دنیا کے بلند ترین میدان جنگ کہلانے والے سیاچن گلیشیئر کا دورہ کیا اور وہاں بھارتی افواج کے ساتھ ملاقات کی۔

فوجی حکام کے مطابق جموں کے رام گڑھ اور آرنیہ سیکٹروں پر بدھ کی شب اور جمعرات کی صبح پاکستانی فوج نے بھارتی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی، تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں جموں کی سرحدوں پر دونوں فوجوں نے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کی جس میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے 12 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

جنرل مشرف اور واجپائی کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں نے سرحدوں اور عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول پر فائربندی کا معاہدہ 11 سال قبل کیا تھا۔

لیکن اکثر اوقات سرحدوں پر فائرنگ ہوتی رہی اور ہر بار دونوں ملک ایک دوسرے کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیکن اکثر اوقات سرحدوں پر فائرنگ ہوتی رہی اور ہر بار دونوں ملک ایک دوسرے کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہیں

حالیہ دنوں جب بھارت کی مہاراشٹر اور ہریانہ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے تھے تو سرحدوں پر کشیدگی کے باعث ہزاروں لوگ نقل مکانی کر رہے تھے۔ سرحد پر فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا تو ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران نریندر مودی نے کہا کہ ’پاکستان نے منھ کی کھائی ہے، ہم نے کرارا جواب دیا ہے۔‘

لیکن بعد میں پھر بھارتی حکام نے کئی بار الزام عائد کیا کہ پاکستان نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ فائرنگ کا تازہ واقعہ بھی بھارت کے وزیردفاع ارون جیٹلی کے ایک انٹرویو کے بعد رونما ہوا ہے۔ اس انٹرویو میں وزیردفاع ارون جیٹلی نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ سرحدوں پر کسی ’مس ایڈونچر‘ کی منصوبہ بندی نہ کرے۔

دریں اثنا نریندر مودی کے کشمیر کے دورے کے خلاف وادی میں علیحدگی پسندوں کی کال پر ہڑتال کی گئی۔ شہر میں سکیورٹی پابندیوں اور ناکہ بندی کی وجہ سے بھی عام زندگی متاثر رہی۔ بی جے پی کے مقامی کارکنوں نے نریندر مودی کا استقبال گورنر ہاؤس میں کیا۔

حکومت نے وزیراعظم کے سامنے 44 ہزار کروڑ روپے کا بحالی منصوبہ رکھا ہے جو سیلاب سے متاثرہ آبادیوں کی آبادکاری کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان اور بھارت کے درمیان متازع علاقے میں سرحد کو لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے

اسی بارے میں