کشمیریوں کا فریڈم مارچ کیا اہداف حاصل کر پائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں پچیس سال سے جاری عوامی تحریک کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی یورپی دارالحکومت لندن میں کشمیریوں کے سیاسی مطالبہ کی اس طرح عوامی سطح پر حمایت کی گئی ہو

ایک ایسے وقت جب بھارت اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور سفارتی سطحوں پر تناؤ جاری ہے ہزاروں کشمیری رضاکار لندن کے ٹرافالگر سکوائر سے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی رہائش 10 ڈاوننگ سٹریٹ تک اتوار کو ایک علامتی مارچ کررہے ہیں۔

یہ مارچ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں کیا جارہا ہے اور اس کا اہتمام پاکستانی زیرانتظام کشمیر کےسابق وزیر اعظم سلطان محمود چوہدری نے کیا ہے۔ حکومت ہند نے اس مارچ سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم لندن میں حکام نے اس پر پابندی عائد نہیں کی۔

کشمیر میں پچیس سال سے جاری عوامی تحریک کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی یورپی دارالحکومت میں کشمیریوں کے سیاسی مطالبہ کی اس طرح عوامی سطح پر حمایت کی گئی ہو۔ یہاں کے اکثر حلقوں نے اتوار کو ہونے والے اس مارچ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

25 سال قبل سرینگر میں جن چند نوجوانوں نے کلاشنکوف رائفل سے پہلی گولی چلا کر مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا، جاوید احمد میر ان میں شامل تھے۔

جموں کشمیرلبریشن فرنٹ کے رہنما جاوید میر اب سیاسی سطح پر سرگرم ہیں اور کہتے ہیں کہ لندن کا مارچ بغیر کوئی گولی چلائے عالمی توجہ کو کشمیر کی طرف مبذول کرائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’جب ہم نے 25 سال قبل بھارت کے خلاف بندوق اُٹھائی تو اس کا مقصد کوئی گلوبل جہاد نہیں تھا۔ ہم تو صرف عالمی توجہ کو کشمیر کے مسئلے کی طرف مبذول کروانی چاہتے تھے۔ اب لگتا ہے کہ ہم کامیاب ہوگئے ہیں۔‘

جاوید میر کا نقطۂ نگاہ فی الوقت کشمیریوں کی عمومی سوچ ہے۔ یہاں کے اکثر لوگ حکومتِ ہند سے اس لیے بھی خفا ہیں کہ گذشتہ چند برسوں کےد وران غیرمسلح مظاہرین پر بھارتی فورسز نے فائرنگ کی جس سے سینکڑوں نوجوان ہلاک ہوگئے۔

طالب علم جندید ڈار کہتے ہیں کہ ’دو ہزار آٹھ سے دو ہزار دس تک تین برسوں میں بھارتی فورسز اور مقامی پولیس نے دو سو سے زائد ایسے نوجوانوں کو مظاہروں کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا جو غیرمسلح احتجاج کررہے تھے۔ بھارت نے ہمیشہ کشمیریوں کی پرامن کوششوں کے جواب میں تشدد کیا ہے، اور جب کوئی نوجوان تنگ آکر ہتھیار اُٹھا لیتا ہے تو پوری تحریک پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کیاجاتا ہے۔ لندن کا مارچ بھارت کی اسی الزام تراشی کا جواب ہے۔‘

صحافی زاہد مقبول کہتے ہیں کہ گذشتہ دہائی کے دوران پاکستان نے کشمیر سے متعلق معذرات خواہانہ پالیسی اپنائی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ ’دیر سے ہی سہی لیکن لگتا ہے کہ پاکستان کشمیر کے بارے میں روایتی پالیسی پر گامزن ہے، اور لندن مارچ جیسے مظاہروں سے بھارت کا کشمیر پر دعویٰ کمزور پڑجائے گا اور یہاں ڈھائے گئے مظالم ایکسپوز ہوجائینگے۔‘

وزیراعلی عمرعبداللہ جو آج کل اپنے والد فاروق عبداللہ کے علاج کے سلسلے میں لندن میں ہی ہیں، نے اس مارچ سے متعلق حیرت کا اظہار کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’اچھا ہوتا اگر لندن اور واشنگٹن کی آرام گاہوں کی بجائے یہ مارچ یہاں منعقد کیا جاتا۔‘

عمر عبداللہ نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں ایسے علیحدگی پسند رہنماؤں کا احترام ہے جو یہاں رہتے ہوئے مظاہرے کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں قانون کی سختیاں برداشت کرتے ہیں۔

عوامی حلقوں میں خاص طور پر فیس بک اور ٹوٹر پر وزیراعلیٰ کے اس بیان کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ ان حلقوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ جمعہ کی نماز یہاں تک کہ عید کی نماز پر پابندی عائد کرتے رہے ہیں، وہ بھلا ملین مارچ کی میزبانی کیسے کرینگے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت ہند کے اعتراض کے باوجود لندن میں ملین مارچ کے انعقاد سے کشمیریوں کے بارے میں بھارت کے رویہ میں مزید شدت آئے گی۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت ہند نے حالیہ برسوں کے دوران امریکہ، اسرائیل، فرانس اور جرمنی سے گہرے تجارتی تعلقات قائم کئے ہیں، جسکے بعد اب یورپ کے بعض ممالک کشمیر کے معاملہ میں سرگرم ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں