بھارت میں حیض آج بھی ممنوع موضوع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ان ایام کے دوران خواتین کو غسل بھی نہیں کرنا چاہیے

’میں اپنی بیٹی کو اس سلوک کا سامنا نہیں کرنے دوں گی جس کا سامنا مجھے حیض کے دوران میں کرنا پڑا۔ میں تو جیسے اس عرصے میں اپنے خاندان کے لیے اچھوت بن جاتی تھی۔ مجھے باورچی خانے اور مندر میں جانے کی اجازت ہوتی تھی اور نہ ہی میں دیگر افراد کے پاس بیٹھ سکتی تھی۔‘

یہ خیالات بھارتی ریاست اترکھنڈ کے دوردراز گاؤں کی رہائشی 32 سالہ منجو بلونی کے ہیں جن کے لہجے سے ایک نیا عزم جھلکتا ہے۔

بھارت میں خواتین کی صحت خصوصاً ایامِ حیض کے معاملے پر عموماً بات نہیں کی جاتی اور روایتی طور پر انھیں ان دنوں کے دوران ناپاک، گندی اور بیمار سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ان ایام کے دوران خواتین کو غسل بھی نہیں کرنا چاہیے۔

حال ہی میں بھارت میں کیے گئے ایک سروے کے نتائج کے مطابق آج بھی شہروں میں رہنے والی خواتین اپنے ’سینیٹری پیڈز‘ کھلے عام نہیں خریدتیں کیونکہ اس امر میں انھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ چند ہی خواتین ایسی ہیں جو اس خریداری کے لیے اپنے مرد رشتہ داروں کی مدد لیتی ہیں۔

میں خود ایک ایسے گھر میں پلی بڑھی ہوں جہاں خواتین ہی خواتین تھیں لیکن وہاں بھی حیض کبھی کھلے عام موضوعِ بحث نہیں رہا۔

لڑکیوں کو اپنے خون سے داغدار کپڑے دھونے کے بعد گھر میں رہنے والے مردوں سے چھپانا سکھایا جاتا ہے۔

میری والدہ گھر میں پرانی چادروں کو کاٹ کر مطلوبہ ٹکڑے تیار کرتیں تاکہ ان کی نوجوان بیٹیاں بوقتِ ضرورت انھیں استعمال کر سکیں اور پھر کپڑے کے ان ٹکڑوں کو دھو کر سکھانا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا کہ کہیں مردوں کی نظریں ان پر نہ پڑیں۔

مجھے میری بڑی بہنوں نے سکھایا کہ کس طرح ان ٹکڑوں کو دھو کر الگنی پر دیگر کپڑوں کے نیچے لٹکایا جائے تاکہ گزرتے ہوئے مردوں کی نظریں ان پر نہ پڑیں۔

لیکن اس سارے عمل کا نتیجہ ان کپڑوں کے سیلے ہونے اور مسلسل بدبو دینے کی شکل میں نکلتا اور پھر یہ کپڑا بار بار استعمال ہونے کی وجہ سے جراثیم کا گھر بھی بن جاتا۔

یہ خاصی پرانی بات ہے لیکن آج بھی بھارت کے اکثر گھروں میں یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارت میں ہر پانچ میں سے ایک لڑکی حیض کی وجہ سے سکول جانا چھوڑ دیتی ہے۔

15 سالہ مرگدارشی اتر کاشی کے ایک دوردراز گاؤں میں رہتی ہے۔ اسے سکول جانا پسند ہے، چاہے اِس کے لیے اسے دشوارگزار پہاڑی راستے پر ہی کیوں نہ سفر کرنا پڑے۔

مرگدارشی سکول سے چھٹی نہیں کرتیں لیکن گذشتہ برس پہلی مرتبہ حیض آنے کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ انھیں حصولِ تعلیم کا سلسلہ موقوف ہی کرنا پڑا تھا۔

Image caption آج بھی شہروں میں رہنے والی خواتین اپنے ’سینیٹری پیڈز‘ کھلے عام نہیں خریدتیں

ان کا کہنا ہے کہ ’سب سے بڑا مسئلہ اس صورت حال سے نمٹنا تھا اور یہ مسئلہ آج بھی برقرار ہے۔ مجھے شرم اور غصہ آتا ہے اور میں خود کو بہت گندا محسوس کرتی ہوں۔ شروع شروع میں میں نے سکول جانا چھوڑ دیا تھا۔‘

مرگدارشی ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں اور حیران ہوتی ہیں کہ حیاتیات کی جماعت میں جب استانی حیض کے عمل کے بارے میں بتاتی ہیں تو ان کے ہم جماعت لڑکے کیوں قہقہے لگاتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’مجھے یہ سب بہت برا لگتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ سب آسان ہو اور میں بلا جھجھک اس کے بارے میں بات کر سکوں۔ ہر عورت کو اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے تو اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے؟‘

غیر سرکاری تنظیم ’گونج‘ کے بانی انشو گپتا کے خیال میں مسئلہ یہ ہے کہ اسے خواتین کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے: ’یہ خواتین کا نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے لیکن ہم نے اسے مخصوص کر دیا ہے۔ ہمیں اس شرم اور خاموشی کے ماحول سے باہر نکلنا ہوگا اور اس روایت کو توڑنا ہوگا۔‘

’گونج‘ ان متعدد تنظیموں میں سے ہے جو عوام کو حیض کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور اس سے وابستہ پرانے خیالات کو بدلنے کے لیے آگہی مہم چلا رہی ہیں۔

یہ عمل بھارت کی 30 میں سے 21 ریاستوں میں جاری ہے۔

آگہی مہم کے علاوہ یہ تنظیم دوبارہ قابلِ استعمال کپڑے سے سستے ’سینیٹری پیڈز‘ بنوا رہی ہے تاکہ ان خواتین کو بھی اس سہولت تک رسائی ہو جن میں اس پر رقم خرچ کرنے کی سکت نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے مروگنتھم ایک سادہ مشین کی مدد سے خواتین کے لیے سستے سینیٹری پیڈز بنا کر شہرت حاصل کر چکے ہیں

دیگر تنظیمیں بھی ماہواری سے متعلق عوام کے ذہنوں پر حاوی خیالات کو بدلنے کے لیے کوشاں ہیں۔

چار بھارتی شہریوں کی جانب سے چلائی جانے والی ویب سائٹ ’مینیسٹروپیڈیا‘ (menstrupedia.com) کا مقصد اس عمل کے بارے میں عام فہم زبان میں معلومات کی فراہمی ہے۔ اس ویب سائٹ پر ماہانہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد آتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھارتی ریاست تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے مروگنتھم ایک سادہ مشین کی مدد سے خواتین کے لیے سستے سینیٹری پیڈز بنا کر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں خواتین میں سے بیشتر منکسر المزاج ہیں اور یہ صورت حال جلد تبدیل ہونے والی نہیں۔

لیکن آہستہ آہستہ خواتین نے اپنی زندگی کا کنٹرول خود حاصل کرنا شروع کر دیا ہے اور ان میں سے بیشتر اب ماہواری کے دنوں میں گھر میں نہیں بیٹھ جاتیں بلکہ اپنے روزمرہ کے امور سرانجام دیتی رہتی ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر یہ وہ اس بارے میں شرمندہ ہوئے بغیر بات کرنے لگی ہیں اور یہ ایک اچھا آغاز ہے۔

اسی بارے میں