بھارت نے کالے دھن کی فہرست سپریم کورٹ کو سونپ دی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانس نے جو فہرست بھارت کو سونپی تھی، وہی فہرست سپریم کورٹ کو دی گئی ہے

بھارت کی مرکزی حکومت نے بھارتی عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ کو بیرون ملک میں جمع شدہ کالے دھن کے معاملے میں 627 لوگوں کی فہرست سونپ دی ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل مکل روہتگي نے آج بدھ کو سپریم کورٹ کو تین مہربند لفافے سونپے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو حکومت کو کالے دھن معاملے میں کہا تھا کہ پہلے آپ ہمیں نام دے دیجیے، پھر ہم اس کی جانچ کریں گے۔

منگل کو حکومت نے تین ناموں کا انکشاف کیا تھا۔

مکل روہتگی نے بعد میں نامہ نگاروں کو بتایا: ’فرانس کی حکومت سے ملنے والے 627 ناموں کی فہرست سپریم کورٹ کو سونپ دی گئی ہے۔ یہی فہرست 27 جون 2014 کو ایس آئی ٹی کو بھی دی گئی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے یہ لفافے نہیں کھولے اور کہا کہ ان دستاویزات کو خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے سامنے رکھا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ معاملے کی رازداری برقرار رکھی جانی چاہیے اور صرف ایس آئی ٹی کے صدر اور نائب صدر ہی یہ لفافے کھول سکتے ہیں۔

مکل روہتگی نے بتایا کہ سپریم کورٹ کو ایس آئی ٹی کی اب تک کی تفتیش کی صورت حال کی رپورٹ بھی سونپی گئی ہے۔

انھوں نے فہرست میں شامل ناموں سے لاعلمی ظاہر کی لیکن کہا کہ ان میں سے آدھے سے زیادہ بھارتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ باقی بھارت کے غیر شہری باشندے (این آر آئی) ہیں جن پر بھارتی انکم ٹیکس کا قانون عائد نہیں ہوتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ویدیہ ناتھن کا کہنا ہے کہ کالا دھن دراصل اس ملک کے عوام، غریبوں، کسانوں، قلیوں اور مزدوروں کی محنت کی کمائی ہے

کالے دھن پر خصوصی مطالعہ کرنے والے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ کے پروفیسر آر ویدیہ ناتھن کا کہنا ہے کہ ’کالا دھن جمع کرنے والوں میں ملک کے بڑے بڑے لیڈروں اور اعلیٰ افسران کے علاوہ بالی وڈ، میڈیا اور سپورٹس کے شعبے کی اہم شخصیتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔‘

حکومت کا کہنا تھا کہ ڈبل ٹیکسیشن (ڈی ٹی اے) کی وجہ سے غیر ملکی بینکوں میں کالا دھن جمع کرنے والوں نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

جبکہ سنہ 2011 کے آغاز میں ہی سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ڈی ٹی اے کا تعلق نام ظاہر کرنے سے کسی بھی طرح سے نہیں منسلک ہے۔

ویدیہ ناتھن کا کہنا ہے کہ اس میں ڈی ٹی اے کے خدشے کے بجائے ’بدعنوانی، منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ، حوالہ، شدت پسندی وغیرہ سے متعلق مسئلے شامل ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر ملکی بینکوں میں جو کالا دھن جمع ہے وہ دراصل اس ملک کے عوام، غریبوں، کسانوں، قلیوں اور مزدوروں کی محنت کی کمائی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق یہ رقم پانچ سو ارب ڈالر ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں