بھارت پولیو کے خاتمے میں پاکستان کی مدد کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ ANKIIT SRINIVAS
Image caption رواں سال مارچ میں بھارت کو باضابطہ طور پر پولیو سے پاک ملک قرار دیا گیا تھا

بھارت نے کہا ہے کہ وہ پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کو جو بھی مدد درکار ہو، فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

بھارت کے وفاقی وزیر صحت ہرش وردھن نے بی بی سی ہندی کے نامہ نگار زبیر احمد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ان تمام پروگراموں اور منصوبوں پر عمل کیا جا سکتا ہے جن کی بدولت بھارت کو پولیو سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے۔

بھارت کو صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے اسی سال باضابطہ طور پر پولیو سے پاک ملکوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

مسٹر ہرش وردھن نے کہا کہ ’بدقسمتی سے پاکستان اب بھی ان مٹھی بھر ملکوں میں شامل ہے جہاں سے پولیو کی بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ گذشتہ ہفتے پولیو کے عالمی دن کے موقعے پر بھی میں نے یہ پیش کش کی تھی اور ڈبلیو ایچ او کو بھی مطلع کیا تھا۔۔۔ ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ جس طرح دوسرے ملکوں نے ہماری مدد کی تھی اسی طرح ہم بھی ان ملکوں کی مدد کریں جہاں یہ وائرس ابھی باقی ہے۔‘

جن ملکوں میں پولیو کی بیماری اب بھی ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے ان میں پاکستان کے علاوہ نائجیریا اور افغانستان بھی شامل ہیں اور ماہرین کے مطابق جب تک ان ملکوں سے پولیو کا وائرس پوری طرح ختم نہیں ہوتا، اس کے دوسرے ملکوں میں پھیلنے کا خطرہ قائم رہے گا۔

مسٹر ہرش وردھن نے کہا کہ ’ہم نے ڈبلیو ایچ او سے کہا ہے کہ پاکستان ہمیں جس طرح کی مدد کے قابل سمجھتا ہے، ہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں آبادی کے لحاظ سے زمینی صورت حال ایک سی ہے، اس لیے جو حکمت عملی ہم نے بھارت میں استعمال کی اسے پاکستان میں بھی استعمال کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘

مسٹر ہرش وردھن نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے بہت پر عزم نظر آتے ہیں اور یہ کہ ’مجھے یقین ہے کہ جس طرح بھارت کو پولیو سے پاک ملک کا سرٹیفیکیٹ ملا ہے، اسی طرح پاکستان کو بھی بہت جلد ٹھوس کامیابی ملے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ANKIT SRINIVAS
Image caption بھارت میں بڑے پیمانے پر پولیو کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی

بھارت میں پولیو کا آخری مریض تین سال قبل رپورٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک اس مرض کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت نے یہ کامیابی بڑے پیمانے پر مسلسل حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے ذریعے حاصل کی تھی۔ بھارت میں سنہ 2011 میں پولیو کا صرف ایک کیس سامنے آیا تھا جبکہ سنہ 2009 میں یہ تعداد 741 تھی۔

گذشتہ سال عالمی ادارۂ صحت نے بھارت کو ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا تھا جہاں پولیو کا اثر ہے۔

اسی بارے میں