اجتماعی دہشت گردی کی کوئی ‎سزا نہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 1984 میں ہونے والے سکھ مخالف فسادات میں بڑے پیمانے پر ہندوؤں نے سکھوں کا قتل عام کیا تھا

30برس قبل 1984 میں ان ہی دنوں پوری دہلی اپنی تاریخ کے ایک خوفناک باب سے گزر رہی تھی۔ دو سکھ محافطوں کے ہاتھوں وزیراعظم اندرا گاندھی کی ہلاکت سے پورے شہر میں کرفیو لگا ہوا تھا۔

ہر طرف حملہ آوروں کا ہجوم سکھ شہریوں کو تلاش کر رہا تھا۔

یکم نومبر کی دوپہر تک منظم فسادیوں نے شہر کے اتنے علاقوں میں آگ لگا دی تھی کہ آسمان میں ہر طرف صرف دھواں دکھائی دے رہا تھا۔ ہزاروں سکھوں نے جان بچانے کے لیے گردواروں میں پناہ لے رکھی تھی۔

فضا میں ہلکی ہلکی خنکی آ چکی تھی اور ہواؤں کے ساتھ دور دراز سے عورتوں اور بچوں کے رونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ سڑکوں پر قاتلوں کے ہجوم پولیس اور سیاسی پشت پناہی کے ساتھ سکھوں اور ان کی املاک پر حملے کر رہے تھے۔ صدیوں کے رشتے ایک لمحے میں منتشر ہو گئے تھے۔ جو پڑوسی تھے وہ اجنبی بن گئے۔ حالات انتہائی خراب تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption تیس سال قبل 31 اکتوبر کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی میں سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے

تین دن کے اندر ہندوؤں کے ہجوم نے دہلی میں تین ہزار سے زیادہ سکھوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ پانچ ہزار سے زیادہ سکھ شدید زخمی ہوئے تھے۔ سکھوں کے ہزاروں مکانوں اوردکانوں کو لوٹنے کے بعد انھیں نذرِآتش کر دیا گیا تھا۔

1984 کے سکھ مخالف فسادات میں کانگریس کے بہت سے مقامی سیاست دانوں نے کردار ادا کیا تھا۔ سکھوں کے قتل عام پر نئے وزیراعظم راجیوگاندھی نے اس وقت کہا تھا ’جب بڑا پیڑ گرتا ہے تو زمین ہلتی ہی ہے۔‘

30 برس تک متاثرین فسادیوں کی نشاندہی اور انھیں سزا دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے لیکن ہزاروں معصوم انسانوں کے قاتل قانون کی گرفت میں نہ آ سکے۔ سکھ تنطیموں، حزب اختلاف کی جماعتوں، حقوق انسانی کی تنظیموں اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں بمشکل تین ہزار انسانوں کے قتل کے لیے 49 ملزمان کو عمر قید کی سزا ہو سکی۔

آزاد ہندوستان کا یہ سب سے بڑا فساد تھا۔ اس کے بعد بھاگل پور میں ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ پھر لال کرشن اڈوانی کی رام جنم بھومی تحریک اور باری مسجد کے انہدام کے بعد ملک گیر فسادات میں ہزاروں مسلمان مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکھ مخالف فسادات کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر املاک کو لوٹا گیا اور مکان و دکان کو نذر آتش کیا گیا

صرف ممبئی میں دسمبر 1992 اور جنوری 93 کے فسادات میں ایک ہزار سے زیارہ مسلمان مارے گئے۔ آخری بڑا فساد 2002 میں گودھرا میں ایک ٹرین میں 67 کارسیوکوں عینی ہندو رضاروں کو زندہ جلائے جانے کے بعدگجرات کے مختلف مقامات پر پھوٹا۔ ان میں بھی ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے۔

ماہرین ابتدا سے یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر حکومت نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے مجرموں کو اسی وقت سزا دی ہوتی تو اس بہیمانہ واقعے کے بعد شاید مستقبل میں بڑے پمیانے پر فسادات نہ ہوتے۔

لیکن بھارت میں مذہبی فسادات میں سیاسی جماعتوں اور اکثر حکمراں جماعت کا ہاتھ ہوتا ہے اور مجرموں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اس لیے وہ قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ گذشتہ 30 برس میں غالباً بھاگلپور کا ہی ایک ایسا واقعہ ہے جس میں 20 برس سے زیادہ گزرنے کے بعد بہارکی سابقہ بی جے پی اور جے ڈی یو حکومت نے نہ صرف یہ کہ متاثرین کو معاوضہ ادا کیا بلکہ درجنوں فسادیوں کو سخت سزائیں دی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آج بھی سکھ اس دکھ کو نہیں بھولے ہیں اور قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں

کچھ حد تک یہی صورتحال گجرات کے فسادات کی بھی ہے۔ مودی حکومت نے فسادات کی اس طرح تفتیش کی تھی اور انھیں عدالتوں میں اس طرح پیش کیا تھا کہ بیشتر معاملات میں فسادی قانون سے بچ گئے تھے۔ لیکن حقوق انسانی کی تنظیموں کی زبردست جد وجہد کے بعد سپریم کورٹ کی نگرانی میں جب اہم معاملات کی دوبارہ تفتیش ہوئی اور انھیں عدالت میں پیش کیا گیا تو سینکڑوں مرتکبین کو سزائیں ملیں۔

مذہبی فسادات پر قابو پانے کا ایک بل پارلمینٹ میں زیر غور ہے۔ لیکن اس بل سے پہلے ملک کی سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ جمہوری نظام میں قانون کی بالادستی مسلم ہے۔

آج دنیا بہت سمٹ چکی ہے۔ آج ہر مقام پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھتی ہے۔ 1984 کے قاتل بھلے ہی سیاسی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر قانون کی گرفت سے نکل گئے ہوں لیکن مستقبل میں شاید ان کا بچ نکلنا اتنا آسان نہ ہو اوروہ بھی قانون کی زد میں آئیں گے جو ان کی پشت پناہی کر رہے ہونگے۔

اسی بارے میں