پاکستانی ہندوؤں کی زندگی ہندوستان میں بھی مشکل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان سے ہندو زائرین کے ویزے پر بھارت آتے ہیں

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پرسن آف انڈین اوریجن (پی آئی او) اور اورسیز سٹیزن آف انڈیا (آو سی آئی) کارڈوں کے انضمام کے فیصلے نے بھارتی نژاد امریکیوں کو تو خوش کر دیا ہے لیکن بابری مسجد کے انہدام اور پاکستان میں طالبان کے اثر میں اضافے کے بعد پاکستان سے ہجرت کر کے بھارت آنے والے ہزاروں ہندو اب بھی مایوسی کا شکار ہیں۔

بھارت کے موقر اخبار دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سے آنے والے ہزاروں ہندو بھارتی شہریت مانگ رہے ہیں۔پاکستان سے ہزاروں ہندو بھارت ہجرت کر چکے ہیں۔ ان ہندو تارکین وطن کی اکثریت لمبے ویزوں پر بھارت میں رہ رہی ہے جس کے تحت انھیں بھارتی حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور بینکوں تک رسائی نہیں ہے۔

ان پاکستانی ہندوؤں کی بڑی تعداد زائرین کے ویزے پر بھارت آتی ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہندو مہاجرین کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے سیمنت لوک سنگٹھن کے صدر ہندو سنگھ سودھا کا کہنا ہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا کے انتخابات سے پہلے اس معاملے پر غور کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر ابھی تک کوئی عمل نہیں ہوا ہے۔

ہندو سنگھ سودھا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرا مودی نے خود ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومت اس معاملے کا جائزہ لےگی۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے ایک ٹاسک فورس کے قیام کے اعلان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔

پاکستان سے آنے والے ہندوؤں کو رکھنے کے لیے جودھپور میں سات کیمپ قائم ہیں جہاں ہر ہفتے تھر لنک ایکسپریس کے ذریعے پاکستانی ہندو پہنچ رہے ہیں جو واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بھارت میں پہنچنے والے ہندوؤں کے مطابق 1991 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد پاکستان میں ہندوؤں کا رہنا مشکل ہوا ہے اور طالبان کے منظر عام پر آنے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

لیکن پاکستان سے آئے ہوئے ہندوؤں کے لیے بھارت میں بھی زندگی آسان نہیں ہے۔

دی ہندو کے مطابق بھارت آنے والے پاکستانی ہندوؤں کی اکثریت نچلی ذات کے ہندوؤں کی ہے اور انھیں شہر کے مضافات میں قائم کیمپوں میں رکھاگیا ہے جہاں پانی، تعلیم، صحت اور چھت جیسی بنیادی سہولتیں بھی ناپید ہیں۔

الکوثر نگر میں قائم ایک ایسے ہی کیمپ میں نہ تو بیت الخلا کی سہولت ہے اور نہ ہی پانی کی سپلائی کا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہے۔ کراچی سے ایک ماہ پہلے آنے والے ایک ہندو خاندان کے ایک فرد نے دی ہندو کی بتایا: ’ہم پانی ایک قریبی مدرسے سے لے کر آتے ہیں، ہمارے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلہ نہیں مل سکتا اور ہم انہیں پرائیوٹ سکولوں میں داخل کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔‘ اس ہندو خاندان نے کراچی میں اپنے خاندان کی حفاظت کے پیش نظر اپنی شناخت ظاہر کرنے سے معذوری ظاہر کی۔

ایسے لوگ جنہیں بھارت میں لمبے عرصے کے لیے ویزہ مل جاتا ہے وہ بھارت میں سات برس تک قیام کے بعد ہی بھارتی شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

ہندو سنگھ سودھا نے کہا کہ ان کیمپوں کی صورتحال کی وجہ سے کئی لوگ واپس چلے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں