بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے رہنما کی سزائے موت برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماضی میں اس طرح کی سزاؤں پر ملک گیر پیمانے پر تشدد کے واقعات دیکھے گئے ہیں

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے نائب سربراہ محمد قمر الزمان کو جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر دی جانے والی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

گذشتہ سال مئی میں جنگی جرائم کے ٹرائبیونل نے محمد قمر الزمان کو سنہ 1971 میں پاکستان سے علیحدگی کی جنگِ آزادی کے دوران تشدد کے سات اور قتلِ عام کے الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ان پر شمالی سرحدی علاقے سہاگپور میں 120 نہتے کسانوں کے اجتماعی قتل کا مجرم بھی قرار دیا گیا تھا۔

اس وقت 62 سالہ محمد قمرالزمان نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ٹرائل میں سیاسی مقاصد کارفرما تھے اور وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے۔

اس سے ایک دن پہلے اتوار کو ہی خصوصی ٹرائبیونل نے جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما میر قاسم علی کو سنہ 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت تھی اور یہ فیصلہ پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر مطیع الرحمان نظامی کی سزائے موت کے بعد آیا۔ انھیں بھی ان ہی الزامات میں سزائے موت سنائی گئي تھی۔

ماضی میں اس طرح کی سزاؤں پر ملک گیر پیمانے پر تشدد کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔

پاکستان میں جماعت اسلامی نے مطیع الرحمان نظامی کی سزا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جب کہ حکومتِ پاکستان کے مطابق اس سزا کو دفتر خارجہ کے ذریعے حکومتی سطح پر بنگلہ دیش کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹرائبیونل 2010 میں بنایا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنھوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔

بنگلہ یش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ سنہ 1971 میں جنگ کے دوران 30 لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ بعض محققین کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں