بھارتی ریل کے رکھوالے

تصویر کے کاپی رائٹ ANKIT
Image caption رام دین بھارتی ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہیں اور اپنے کام کے بارے میں بہت جذباتی باتیں کرتے ہیں

بھارت کے شمالی شہر آلہ آباد کی چلچلاتی دھوپ میں ریل کی پٹریوں کے ساتھ ساتھ میں اور رام دین چل رہے تھے۔

رام دین بھارتی ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہیں اور اپنے کام کے بارے میں بہت جذباتی باتیں کرتے ہیں۔

وہ اپنے کام کرنے کی جگہ پر پہنچنے کے لیے تیز تیز قدم اٹھاتے ہیں جہاں ان کے دیگر ساتھی ریل کی پٹریوں کو ٹھیک کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔

رام دین کے ساتھیوں کو نہ گرمی کی کوئی پروا ہوتی ہے اور نہ ہی دوسری پٹری پر چلنے والی ٹرینوں کی۔

وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دعا سلام کے بعد اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

رام اور ان کے دیگر ساتھی بھارتی ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہیں۔

اس نیٹ ورک میں دو لاکھ ورکرز ہیں جن کا بنیادی کام 1,10,000 کلومیٹر طویل بھارتی ریل کی پٹریوں کی مرمت اور ان کی دیکھ بھال کرنا ہے۔

بھارتی ریلویز کے ترجمان انیل سکسینا کا کہنا ہے کہ ریل کی پٹڑی بچھانے اور اس کی مرمت کرنے والے یہ افراد بھارتی ریلویز میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ریل کی پٹڑی بچھانے اور اس کی مرمت کرنے والے فرد کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ انتہائی سخت موسم میں بھی ریل کی پٹریوں کی نگرانی کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANKIT
Image caption بھارتی ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریل کی پٹریوں کی مرمت اور نئی پٹری بچھانے کا شعبہ بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے تاہم ریل کی پٹریوں کی مرمت اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کا کام ہمیشہ اہم رہا ہے اور اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے

ایک گھنٹے کے کام کے بعد رام دین اور ان کے ساتھیوں نے وقفہ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ میرے ساتھ بات کرنے کے لیے آ گئے۔

رام دین نے مجھے بتایا کہ ساتھ والی پٹری پر چلنے والی ٹرینیں انھیں خوفزدہ نہیں کرتیں۔

انھوں نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ یہ کام مکمل طور پر محفوظ ہے۔

انھوں نے کہا : ہمیں برسوں سے اس کام کی مشق ہے۔ ہمیں ان علاقوں کے بارے میں معلوم ہے اور یہ بھی کہ ٹرینیں ان پٹریوں پر کیسے گزریں گی؟‘

رام دین کا مزید کہنا تھا کہ ریل پر سفر کرنے والے افراد ٹرینوں پر مزے سے سوتے ہیں تاہم آپ میں سے متعدد کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ہم ان کی حفاظت کے لیے کتنا سخت کام کرتے ہیں۔

ان کے ایک ساتھی بچی لال کو، جن کی بنیادی ذمہ داری ریل کی پٹریوں کی نگرانی اور ان کی مرمت کرنا شامل ہے، اکثر دور دراز جگہوں پر گھنٹوں کام کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک بار ہمیں جنگلات میں پٹرویوں کی مرمت کرنے کے لیے رات کو رکنا پڑا اور اس دوران ہم نے جانوروں کی آوازیں سنیں۔

بچی لال کے مطابق: ’ہم اپنے خاندانوں سے کئی کئی دنوں تک دور رہتے ہیں اور چونکہ ہم گروپوں میں کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہم اداس نہیں ہوتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ANKIT
Image caption بچی لال جن کی بنیادی ذمہ داری ریل کی پٹریوں کی نگرانی اور ان کی مرمت کرنا شامل ہے

بھارتی ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریل کی پٹریوں کی مرمت اور نئی پٹری بچھانے کا شعبہ بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے تاہم ریل کی پٹریوں کی مرمت اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کا کام ہمیشہ اہم رہا ہے اور اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

بھارتی ریلوے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے: ’ہم کتنے ہی ماڈرن کیوں نہ ہو جائیں، ریل پٹریوں کی مرمت اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ زمین پر ہمارے آنکھ اور کان ہیں۔ یہ ایک دن کےدوران ریل کی پٹریوں کے ایک ایک انچ کا معائنہ کرتے ہیں۔‘

اگرچہ انتہائی اہم کرنے والے افراد کو معمولی تنخواہیں ملتی ہیں تاہم انھیں صحت اور رہائش کی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔

بھارتی ریلویز کے سابق متنظم جےگوپال مشرا کا کہنا ہے: ’یہ افراد ریلوے میں فرنٹ لائن کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کا کام خطرناک ہے۔ انھیں قطعی طور پر اچھی تنخواہیں نہیں ملتیں۔‘

رام دین کے ایک اور ساتھی پرساد کو امید ہے کہ انھیں مستقبل میں اچھی تنخواہیں ملیں گی تاہم انھوں نے حکام سے استدعا کی وہ ان سے وقتاً فوقتاً ملتے رہیں تاکہ انھیں ان کے کام کے ماحول کے بارے میں آگاہی حاصل ہو۔‘

میں الہ آباد کے نزدیک اروند کمار سے ملا اور ان سے پوچھا کہ موسم ان کے کام پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

اروند کے مطابق: ’جب بھی بہت زیادہ گرمی یا تیز بارشیں ہوتی ہیں تو ہمیں زیادہ محتاط ہونا پڑتا ہے کیونکہ سخت موسم میں حادثات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم ریل کی پٹریوں کی دیکھ بھال کے لیے جنتا ممکن ہو کام کرتے ہیں، تاہم اس کے باوجود حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم مسافروں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ دعا کرتے رہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں