سورت میں رن وے پر طیارے اور بھینس کی ٹکر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپائس جیٹ کا شمار بھارت کی بڑی نجی ایئرلائنز میں ہوتا ہے

بھارتی ریاست گجرات کے شہر سورت میں حکام نے ایک طیارے کی رن وے پر ایک بھینس سے ٹکر کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

بھارت کی معروف نجی ایئر لائن کمپنی سپائس جیٹ کا بوئنگ 800- 737 طیارہ جمعرات کو سورت سے دارالحکومت دہلی کے لیے پرواز کرنے والا تھا کہ یہ حادثہ پیش آیا۔

مسافر بردار طیارے میں مسافروں اور عملے سمیت کل 146 افراد سوار تھے جو محفوظ رہے۔

تاہم ٹکراؤ کی وجہ سے جہاز کو کافی نقصان پہنچا ہے اور اطلاعات کے مطابق جہاز کی مرمت پر کئي لاکھ ڈالر خرچ آ سکتا ہے۔

سپائس جیٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اس حادثے میں بھینس ہلاک ہوگئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ رن وے کی سطح سیاہ ہونے کے سبب پائلٹ کو بھینس نظر نہیں آئی۔

اس حادثے کے بعد طیارے کے مسافروں کو ایک دوسرے طیارے سے منزل پر بھیجا گیا جبکہ ایئر لائن نے سورت سے اپنی سروس کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ’بعض ہوائی اڈوں پر آوارہ جانوروں کی وجہ سے خطرہ بڑھ گیا ہے جس سے ہمارا آپریشن متاثر ہوا ہے۔‘

مذکورہ طیارے میں سوار پربھاكر جوشی نامی ایک مسافر نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا ’جیسے ہی جہاز نے رفتار پکڑی ہمیں زوردار آواز سنائی پڑی۔ ایسا لگا جیسے پہیوں سے کوئی چیز ٹکرائی ہو۔‘

گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں شہری ہوا بازی کے شعبے میں کافی ترقی ہوئی ہے اور ملک میں اس دوران نجی فضائی کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ اور ہوائی سروسز میں توسیع دیکھی گئی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ فضائی سفر کی سکیورٹی کے خدشات ایک بڑا مسئلہ ہیں اور خاص طور پر ہوائی اڈّوں کے نظم و نسق پر سوال اٹھتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں