جنوبی ایشیا پر مذہبی جنونیت کے بڑھتے ہوئے سائے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیپال میں ہندو تنظیموں کو بھارت کی ہندو نواز جماعتوں کی امداد حاصل ہے

ایشیا کی تاریخ میں یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ جنوبی ایشیا کے سبھی ممالک اس وقت جمہوری سیاسی نظام کے تحت چل رہے ہیں۔

فی الوقت افغانستان اور نیپال ہی دو ایسے ممالک ہیں جہاں جمہوری نظام کو وہاں کی اندورنی سیاسی کشمکش سے خطرہ لاحق ہے ورنہ باقی تمام ممالک میں جمہوری نظام کے نکتۂ نظر سے صورتحال نسبتاً اطمینان بخش ہے۔

تاہم کچھ عرصے سے جنوبی ایشیا کے سبھی ممالک میں تیزی سے ابھرتی ہوئي مذہبی جنونیت اور مذہبی تنگ نظری کا ایک نیا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ان ممالک میں مذہبی جنونیت جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین چیلنچ بن کر ابھر رہی ہے۔ تشویشناک بات یہ کہ یہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

افغانستان میں طالبان اور اس کی ہمنوا مذہبی انتہا پسند تنظیمیں امریکی افواج کے انخلا کا انتظار کر رہی ہیں۔ کابل کی منتخب حکومت بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے۔افغانستان کی جمہوریت کو ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption دہلی کے ترلوکپوری علاقے میں حالیہ فسادات کے بعد یہ منظر نظر آيا

نیپال میں ایک طویل جدوجہد کے بعد عوام نے بادشاہت کا خاتمہ کیا اور اپنے لیے ایک جمہوری نظام منتخب کیا۔ لیکن ابھی اس تجربے کو کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ ملک کی کئی بڑی سیاسی جماعتیں نیپال کو ایک ہندو مملکت میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بھارت کی آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی ہندو نواز جماعتیں نیپال کی اس تحریک کی مدد کر رہی ہیں۔

نیپال کے لیے ایک نیا آئین مرتب کیا جا رہا ہے۔ جمہوریت یا مذہبی مملکت۔ اس سوال پر آئین ساز اسمبلی تعطل کا شکار ہے۔

سری لنکا میں عدم تشدد میں یقین رکھنے والے بودھ مذہب کے بہت سے راہبوں نے مسلمانوں کے خلاف تحریک چلا رکھی ہے۔ مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور ان کی رہائش گاہوں پراکثر حملے کیے جاتے ہیں۔ ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں ہندونواز جماعت اقتدار میں آئی ہے تاہم وہ ترقی کے ایجنڈے پر آئی ہے

برما میں تو بودھ راہب ہی نہیں وہاں کی حکومت بھی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہے۔ سینکڑوں روہنگیا مسلمان مارے جا چکے ہیں اور ان کی متعدد بستیاں جلا کر خاکستر کر دی گئی ہیں۔ ہزاروں روہنگیا بھاگ کر بنگلہ دیش اور بھارت میں پناہ لے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ایک عرصے سے مسلم انتہا پسند تنظیمیں زور پکڑ رہی ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں مذہب کے نام پر کئی اہم دہشت گرد تنظیمیں وجود میں آئی ہیں۔ ملک کی ہندو اقلیت شدید دباؤ میں ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف تفریق اور اہانت کے سلسلے رفتہ رفتہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر برس ہزاروں ہندو بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت میں پناہ لے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کابل میں طالبان کی جانب سے آئے دن دھماکے ہوتے ہیں

پاکستان میں جمہوریت کو تو وہاں کی سیاسی جماعتوں سے ہی کئی بار خطرہ پیدا ہو جاتا ہے لیکن ملک کو سب سے بڑا خطرہ مذہبی انتہا پسندوں سے ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے سوال پر اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب پاکستان میں یہ چیلنج اور بھی پیچیدہ ہے۔

ناموس رسالت جیسے قوانین نے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ بے بس اور غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی اب ملک کے جمہوری اداروں پر بھی اثر انداز ہونے لگی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں مذہبی جنونیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کمزور پڑ رہا ہے۔

جنوبی ایشیا میں بھارت سب سے مستحکم جمہوریت ہے۔ یہاں پہلی بار ایک ہندو نواز دائیں بازو کی جماعت اپنے زور پر اقتدار میں آئی لیکن وہ ہندوئیت کے ایجنڈے پر نہیں ترقی اورایک بہترنظام کے نعرے پر اقتدار تک پہنچی۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption برما میں بودھ مت کے ماننے والوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کاروائیوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں

حکومت تو اپنے ایجنڈے پر قائم ہے لیکن اس سے منسلک ہندو تنظیمیں پوری طرح حرکت میں آگئی ہیں۔

پچھلے دنوں دارالحکومت دہلی کے ایک علاقے میں حکمراں جماعت کے کئی رہناؤں سمیت ہندو انتہا پسندوں نے ہزاروں ہندوؤں کی ایک باضابطہ پننچایت میں یہ اعلان کیا کہ وہ اس علاقے سے یوم عاشورہ کو تعزیے کا روایتی جلوس نہیں نکلنے دیں گے۔ سینکڑوں پولیس کی موجودگی اور انتظامیہ کے دخل کے باوجود تعزیہ اسی صورت میں نکل سکا جب اس کا راستہ بدل دیا گیا۔

گجرات کی ایک میونسپلٹی نے ایک قرارداد کے ذریعے شہر میں گوشت خوری پر پابندی لگا دی ہے اور ریاست چھتیس گڑھ کے کئی گاؤں کی پنچایتوں نے مقامی عیسائیوں کوسرکاری راشن کی دکانوں سے راشن دینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق کئی علاقوں میں مقامی عیسائیوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سری لنکا میں بھی بودھ راہبوں کی جانب سے اقلیتی برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے

پورے جنوبی ایشیا میں اس وقت مذہبی انتہا پسندی زوروں پر ہے۔ مذہبی انتہا پسندی بھی ایک طرح کی سیاسی جماعت ہے جو جبر، طاقت اورعددی اکثریت کی دہشت پیدا کر کے سیاست میں اپنا حصہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ یہ جمہوریت میں یقین نہیں رکھتی اس لیے اس کا طریقہ کار ہمیشہ غیر جمہوری ہوتا ہے۔

جمہوریت کی بقا اور فروغ کے لیے یہ ضروری ہے کہ جمہوریت مخالفت نظریات اور تنظیموں کو شدت کے ساتھ نظریاتی شکست دی جائے اور ریاست کو مذہب سے الگ رکھا جائے۔ ریاست کا کام مذہب چلانا نہیں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی سے فرد کا تحفظ کرنا ہے۔

جنوبی ایشیا غربت ، ناخواندگی ، بیماری اور پسماندگی کے اعتبار سے دنیا کے بد ترین خطے میں شمار ہوتا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اسے مزید مشکلوں میں دھکیل رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کی غربت اور افلاس کا حل مذہبی انتہا پسندی میں نہیں صرف جمہوریت میں پنہاں ہے۔

اسی بارے میں