سرِعام بوس و کنار، نیا اندازِ احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ a
Image caption کسی آف لو احتجاج کا نیا طریقہ ہے

انڈیا میں ’ کِس آف لو‘ کے قصے تو اب تک آپ نے سن ہی لیے ہوں گے، نوجوان لڑکے لڑکیاں ہندو مذہبی انتہا پسندوں کو یہ پیغام دینے کے لیے جگہ جگہ سڑکوں پر بوس و کنار کر رہے ہیں کہ انھیں ’اخلاقی پولیسنگ‘ برداشت نہیں ہے، وہ اپنی زندگی اپنے انداز سے جینا چاہتے ہیں۔

پیغام دینے کا یہ انداز بھی نرالا ہے۔ مظاہرین میں زیادہ تر نوجوان طلبہ ہیں اور انھیں روکنے والوں میں وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ مغربی طور طریقوں سے ملک کی تہذیب تباہ ہو رہی ہے۔

شاید آسان راستہ یہ ہے کہ جنھیں بوس و کنار کرنا ہے وہ کرتے رہیں، جنھیں روکنا ہے وہ روکنے کی کوشش کرتے رہیں، اور جو تماشائی ہیں وہ دیکھتے رہیں۔

بس سب ایک دوسرے سے ذرا فاصلہ قائم رکھیں کیونکہ یہ بحث کبھی ان جملوں کےساتھ ختم نہیں ہوگی کہ ’اوہ، اب سمجھا آپ کی بات کا مطلب، آپ کا موقف درست تھا، میں ہی غلطی پر تھا، اب میں زندگی میں کبھی کسی لڑکی کے ساتھ گھومنا تو دور اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھوں گا۔۔۔

یا یہ کہ ’بھائی آپ کو جس کے ساتھ گھومنا ہے گھومیں، ہمیں کیا، آپ کی زندگی ہے آپ کو مبارک۔ ہم ہر وقت انگلی پکڑ کر تو آپ کو چلا نہیں سکتے۔ ہمیں تو سیاست کرنی ہے، کوئی اور ایشو ڈھونڈ لیں گے۔۔۔۔‘

چلو پاکستان چلیں

آپ کو شاید یاد ہوگا کہ بہار میں بی جے پی کے ایک رہنما نے ان لوگوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا تھا جنھیں نریندر مودی کی سیاست اور قیادت پر اعتراض تھا۔ پھر ان کے گھر سے ایک بڑی رقم چوری ہونے کی خبریں آئیں، اور گری راج کشور کو یہ صفائی دینا پڑی کہ رقم ان کی نہیں ان کے رشتے کے بھائی کی تھی۔ اب انھیں نریندر مودی نے وفاقی وزارتی کونسل میں شامل کر لیا ہے۔

لیکن شکر ہے کہ انھیں پاکستان سے تعلقات استوار کرنے کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے۔ نریندر مودی کے مخالفین نے بھی سکھ کا سانس لیا ہوگا۔ انھیں یہ فکر تو ضرور رہی ہوگی کہ گری راج سنگھ وزیر بننے کے بعد اپنے مشورے پر عمل کرنا شروع نہ کر دیں۔

لیکن اگر کسی کو یہ فکر تھی تو بلاوجہ ہی تھی، گری راج سنگھ کو بھی سیاست ہی کرنی ہے، ٹرانسپورٹ کا کاروبار نہیں۔ وہ بھی ضرورت پڑنے پر کوئی اور مسئلہ تلاش کر لیں گے۔

ووٹ صرف بی جے پی کے لیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بی جے پی کو حالیہ انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل ہو گی

اور آج جب پرانی باتوں کا ذکر چل ہی نکلا ہے تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے اسمبلی سے ایک بل منظور کرایا تھا جس کے تحت بلدیاتی انتخابات میں ہر شہری کے لیے ووٹنگ لازمی کرنے کی تجویز تھی۔

لیکن اس وقت ریاست کی گورنر نے اس بل پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب گورنر بدل گئی ہیں، اور بل کو قانون کی شکل دے دی گئی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹ نہیں ڈالیں گے، انھیں کیا سزا دی جائے گی، جیل یا جرمانہ؟

لیکن جمہوری حقوق کے علم برداروں نے پھر بھی سکھ کا سانس لیا ہوگا کیوں کہ صرف ووٹنگ لازمی کی گئی ہے، ووٹ کسے دینا ہے اس کا نئے قانون میں کوئی ذکر نہیں ہے۔

اسی بارے میں