بشار الاسد اس خوفناک جنگ میں بچے کیسے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں جاری لڑائی میں اب تک دو لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں بڑی تعداد بچوں کی ہے

نوجوان استانی لمبے کوٹ اور سکرٹ میں ملبوس تھی اور اس نے اپنے بالوں کو سفید سکارف سے ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ اپنی شناخت چھپانا چاہتی ہے کیونکہ شناخت ظاہر ہونے سے اس کے لیے مصیبتوں کے پہاڑ کھڑے ہو سکتے ہیں۔

وہ دمشق کے نواح میں فری سیریئن آرمی سے منسلک ایک جنگجو گروپ کے زیر کنٹرول کابون قصبے کے ایک سکول میں پڑھاتی ہے۔

میں گذشتہ گرمیوں میں حکومت کے زیر کنٹرول دمشق سے اس علاقے میں داخل ہوا۔ فری سیریئن آرمی سے منسلک جنگجو گروپ کے باریش کمانڈروں کی بربریت کو ناپسند کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ کر کے شام میں ترکی کی طرح کی اسلامی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔

سکول میں کھیلتے بچوں کی ہلاکتیں

استانی دھیمے مگر غصے سے بھرے ہوئے لہجے میں سکول کے پارک میں گذشتہ ہفتے ہونے والے ان دو دھماکوں کا قصہ سنا رہی تھی جن میں سکول کے 15 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

استانی ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے بعد دھواں ختم ہوتے ہی اسے زمین پر تڑپتے ہوئے، مرتے ہوئے بچے نظر آئے اور انھوں نے ان بچوں کے لیے دعا مانگی۔

Image caption اس لڑائی میں مرنے والے زیادہ تر لوگ شام کے عام شہری ہیں جنہیں دونوں طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس نے دھماکوں والی صبح دو 11 سال بچوں کو شرارت کرنے پر کلاس سے باہر بھجوا دیا تھا۔ وہ دونوں پارک میں اکٹھے کھیلتے ہوئے دھماکوں کی نذر ہو گئے اور اسی دن انھیں ایک دوسرے کے قریب دفن کیا گیا۔

’ان بچوں نے ایسا کیا جرم کیا تھا؟ ان کے پاس کون سے ہتھیار تھے؟‘ استانی نے مدھم لیکن سخت لہجے میں مجھ سے یہ سوالات کر ڈالے۔

انھیں کچھ نہیں پتہ کہ یہ دھماکے کس نے کروائے ہیں۔ شام کے ہر باشندے کی طرح یہ استانی بھی تمام متحارب گروپوں کی کارروائیوں سے پریشان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صدر اسد کا فرض ہے کہ بچوں کو جنگ سے دور رکھے، انھیں بچوں پر شیلنگ نہیں کرنی چاہیے، تمام گروپوں کو بچوں پر حملے بند کرنا ہوں گے۔

شام پر کڑا اور برا وقت:

کیا شام میں جاری خوں ریز جنگ ختم ہونے کے کوئی امکانات ہیں؟ میرے خیال میں مستقبل قریب میں اس کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اب تک دو لاکھ افراد اس جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ شام کی آدھی سے بھی زیادہ آبادی یعنی تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔

2011 میں صدر اسد کے خلاف کچھ گروپ اٹھ کھڑے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مزاحمت ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی میں تبدیل ہو گئی۔

اسد مخالفین کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی کہ وہ ان کا اقتدار چند مہینوں میں ختم کر سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی صدر اسد کی حکومت کے ابھی تک قائم ہونے کی ایک وجہ باغی گروپوں کے اختلافات ہیں

صدر اسد مصر، لیبیا اور تیونس کے رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ مقبول تھے لیکن کرپشن اور مخالفین کے خلاف کارروائیوں کے باعث ان کے خلاف مزاحمت میں شدت آئی۔

بشارالاسد ابھی تک اپنی حکومت بچانے میں کامیاب رہے ہیں لیکن یہ عوام کی حمایت کے بغیر ناممکن ہوت۔

سرکاری فوج کی صدر اسد سے وفاداری

صدر اسد پر انتہائی برا وقت آیا اور وہ شام کے وسیع علاقے کا کنٹرول کھو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ڈٹے رہنے میں کامیاب رہے ہیں۔

بشرالاسد کی حکومت کو ایران، روس اور لبنان کی حزب اللہ کی جانب سے بھرپور مالی اور سفارتی تعاون حاصل رہا لیکن یہ بھی اہم ہے کہ ملک کے اندر بھی اسد اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

لڑائی کے اوائل میں شام کی سرکاری فوج میں بڑے پیمانے پر وفاداریاں تبدیل کرنے کی پیش گوئیاں کی گئیں لیکن ایسا با لکل نہیں ہوا۔

اسد کے مخالفین تقسیم ہیں

شام کی فوج کے زیادہ تر افسران جن سے میں ملا ہوں، صدر اسد کی طرح علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ہر یونٹ میں اب بھی سنی فرقے کے لوگ موجود ہیں۔

صدر اسد کی حکومت کے ابھی تک قائم ہونے کی ایک وجہ باغی گروپوں کے اختلافات بھی ہیں۔ لیکن اسد مخالفین مغربی ممالک پر ان کی مدد نہ کرنے کو اپنی ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں۔

روس بشار الاسد کی حمایت کر رہا ہے تو دوسری طرف امریکہ اسد کے خلاف لڑنے والے جہادی گروپوں پر بمباری میں مصروف ہے۔

شام کی جنگ اب تبدیل ہو رہی ہے اور اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

اسی بارے میں