بھارت: ’طالبات پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AMU
Image caption طالبات نے اس پابندی کے خلاف احتجاج بھی کیے ہیں

بھارت میں ایک عدالت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو لائبریری میں داخلے کی اجازت نہ دینے کو ملک کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ریاست اترپردیش میں واقع ملک کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِتعلیم کئی ہزار انڈرگریجویٹ طالبات کو کیمپس کی مرکزی مولانا آزاد لائبریری میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لائبریری میں طالبات کی موجودگی سے لڑکے اُن کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں گے اور یہ کہ لائبریری میں لڑکیوں کے لیے مطلوبہ تعداد میں نشستیں بھی نہیں ہیں۔

انھوں نے طالبات کو یہ مشورہ بھی دے دیا ہے کہ وہ لائبریری جانے کی بجائے انٹرنیٹ سے لائبریری کتابیں آرڈر کیا کریں۔

اس پابندی کے خلاف غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس لا نیٹ ورک ’ایچ آر ایل این‘ کی حمایت میں الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

ایچ آر ایل این کی وکیل سمرتھی کرتیکا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر لائبریری تک رسائی تمام طالب علموں کا بنیادی حق ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اگر لائبریری میں طالبات کے لیے زیادہ نشستیں نہیں ہیں تو اس صورت میں یونیورسٹی انھیں جگہ فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔

عدالت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 24 نومبر کو طلب کیا ہے۔

علی گڑھ یونیورسٹی میں اس وقت ایک ہزار انڈر گریجویٹ طالب علم ہیں اور ان میں سے اکثریت طالبات کی ہے۔

وائس چانسلر لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیرالدین شاہ نے پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی لائبریری میں نشستیں محدود تھیں۔

اطلاعات کے مطابق وائس چانسلر کے بقول لائبریری میں بیھٹنے کی گنجائش پہلے ہی بہت کم ہے اور اگر انڈر گریجویٹ طالبات کو رسائی دی گئی تو اس صورت میں طلبہ بھی پیچھے آنا شروع ہو جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ انڈر گریجویٹ طالبات کے کالج سے لائبریری تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور طالبات کو لائبریری آتے ہوئے جنسی ہراس کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

طالبات کو لائبریری سے آن لائن کتابیں حاصل کرنے کی سہولت حاصل ہے تاہم اس فیصلے کے خلاف طالبات نے احتجاج بھی کیا ہے۔

یونیورسٹی کے اس فیصلے پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سیاست دانوں نے شدید تنقید کی تھی۔