’سری نواسن میچ فکسنگ میں ملوث نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سری نواسن بھارتی بی سی سی آئی کے سربراہ بھی ہیں لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر انھیں عارضی طور پر اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نے انڈین پریمیئر لیگ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی تفتیش کرنے والی جسٹس مدگل کمیٹی کی رپورٹ کا ایک حصہ ان لوگوں کو فراہم کیا ہے جو تفتیش کے دائرے میں تھے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے سربراہ این سری نواسن میچ فکسنگ اور سٹے بازی میں ملوث نہیں تھے اور نہ ہی انھوں نے تفتیش میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم انھیں ایک کھلاڑی کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا علم تھا۔

رپورٹ کا ایک حصہ ان لوگوں کو فراہم کیا گیا ہے جنھیں عدالت نے گذشتہ ہفتے نوٹس جاری کیے تھے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے سلسلے میں تفتیش کی گئی تھی۔ ان میں آئی سی سی کے سربراہ این سری نواسن ان کے داماد گروناتھ مئی اپن، آئی پی ایل کے سینیئر اہلکار سندر رمن اور راجستھان رائلز کے مالک راج کندرا بھی شامل ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق رپورٹ میں این سری نواسن کے بارے میں کہا گیا ہے وہ میچ فکسنگ یا سٹے بازی میں ملوث نہیں تھے لیکن انھیں ایک کھلاڑی کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا علم تھا لیکن اس کےباوجود انھوں نے اس کھلاڑی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

رپورٹ میں کھلاڑی کا نام شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ یہ خلاف ورزی کس نوعیت کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سری نواسن کے داماد مئی اپن غیر قانونی سٹے بازی میں تو ملوث تھے لیکن ان کے خلاف میچ فکسنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ جسٹس مدگل نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک کھلاڑی کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا علم بورڈ کے چار دیگر اہلکاروں کو بھی تھا۔

سری نواسن بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سربراہ بھی ہیں لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر انھیں عارضی طور پر اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔

بی سی سی آئی کے اعلیٰ اہلکار اور سابق وفاقی وزیر راجیو شکلا نے کہا کہ 24 نومبر کو مقدمے کی اگلی سماعت سے پہلے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ رپورٹ ابھی مکمل نہیں ہے۔

لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اب مسٹر سری نواسن کے لیے بی سی سی آئی کے صدر کے عہدے پر واپس لوٹنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بہرحال فی الحال رپورٹ میں کوئی دھماکہ خیز انکشاف نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی پر براہ راست میچ فکسنگ کا الزام لگایا گیا ہے۔

نگاہیں اب سپریم کورٹ پر ٹکی رہیں گی، یہ دیکھنے کے لیے کہ جسٹس مدگل نے کن کھلاڑیوں کی تفتیش کی تھی اور کیا ان پر کوئی جرم ثابت ہوا ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں