بھارت:گرو رام پال کی درخواستِ ضمانت مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2006 میں ہونے والے قتل کے معاملے میں 2008 میں رام پال کو ضمانت ملی تھی

چندی گڑھ میں واقع پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے خودساختہ ہندو گرو رام پال کی ضمانت منسوخ کر دی ہے۔

وہ قتل کے ایک معاملے میں ملزم ہیں اور جمعرات کی دوپہر کو انھیں عدالت میں پیش کیا گیا۔

ست لوک آشرم میں تصادم، چھ ہلاکتوں کی تصدیق

بابا رام پال کو بدھ کی شب ہریانہ کے علاقے بروالا میں واقع ست لوك آشرم سے ہریانہ پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا.

گرفتاری کے بعد انھیں پولیس ایمبولنس میں پنچ کلہ کے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔

پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے کئی دن پہلے بابا رام پال کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا لیکن ان کے کئی حامی ان کی گرفتاری کی مخالفت کر رہے تھے۔

ادھر رام پال نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے۔

Image caption ست لوک آشرم میں منگل کو جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک اور 200 زخمی ہوئے

شرم

میڈیا کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا، ’سارے الزام جھوٹے ہیں۔ آشرم میں مسلح لوگ میرے نہیں بلکہ قومی خدمت سوسائٹی کی کمیٹی کے تھے۔‘

2006 میں ہونے والے قتل کے معاملے میں 2008 میں رام پال کو ضمانت ملی تھی لیکن اس کے بعد سے وہ ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ عدالت نے ہریانہ کے ڈی جی پی اور ہوم سیکریٹری کو 17 نومبر تک رام پال کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن سنت رام پال اس دن بھی پیش نہیں ہوئے جس کے بعد عدالت نے 21 نومبر تک پولیس کو انھیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

منگل کو جب پولیس نے رام پال کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو دارالحکومت دہلی سے شمال مشرق میں 170 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ست لوک آشرم کے قریب پولیس اور گرو کے حامیوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں حکام کے مطابق چھ افراد ہلاک اور تقریباً 200 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں