افغانستان میں درپردہ جنگ کی اجازت نہیں دیں گے: اشرف غنی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان صدر اشرف غنی نے چند دن پہلے ہی پاکستان کا دورہ کیا تھا

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے دوران منعقدہ سارک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کو ’پراکسی وار‘ یعنی در پردہ جنگ کا میدان نہیں بننے دیں گے۔

نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں جاری جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اپنی سرزمین کو اپنے کسی بھی ہمسایے کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی کو اپنی زمین سے درپردہ جنگ لڑنے کی اجازت دیں گے۔‘

نیٹو افواج کے انخلا سے پراکسی وار شروع ہو سکتی ہے: مشرف

انھیں کیوں نشانہ بنائیں جو ہمارے لیے خطرہ نہیں: سرتاج عزیز

صدر اشرف غنی سے پہلے سابق افغان صدر حامد کرزئی متعدد بار پاکستان پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ طالبان کے ذریعے ان کے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ گذشتہ ہفتے پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے کہا تھا کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا پاکستان اور بھارت کو افغانستان میں درپردہ جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے خطاب میں پاکستان کا نام لیے بغیر اتوار کو والی بال کے ایک میچ کے دوران ہونے والے خودکش حملے میں 57 ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست کی طرف سے غیر ریاستی عناصر کی پشت پناہی کے نقصان دہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات طے نہیں ہے

صدر اشرف غنی نے سارک اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کو خبردار کیا کہ علاقائی تعاون میں اضافے کی کوششوں کو پاکستان اور بھارت کی کئی دہائیوں پر محیط دشمنی پیچھے دھکیل سکتی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا کو تنازعات سے پاک خطہ دیکھنے کے خواہشمند ہیں جہاں غربت، جہالت، بیماری اور بےروزگاری جیسے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔

’امن اور خوشحالی کے لیے مربوط تعاون‘ کے عنوان کے تحت ہونے والی کانفرنس سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ خطے میں غربت اور جہالت جیسے مسائل سے نمٹنے اور قدرتی آفات اور دہشت گردی سے بچنے کے لیے تمام رکن ممالک کو تعاون کرنا ہوگا اور معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سارک کانفرنس میں ممبئی حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کا مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

’2008 میں جانوں کے ضائع پر ہمیں نہ بھولنے والی تکلیف پہنچی۔ چلیں مل کر دہشت گردی اور بین الاقوامی جرائم کے خاتمے کے عزم کو پورا کرنے کے لیے کام کریں۔‘

وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کی حفاظت اور لوگوں کی زندگی کے بارے میں حساس کرنا ہوگا اور اس علاقے کو ترقی اور خوشحالی کی ایک نئی اونچائی تک لے جانا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی وزیراعظم نے کانفرس میں ممبئی حملوں کا دوبارہ ذکر کیا

سارک کے اجلاس میں شریک تمام رہنما علیحدہ علیحدہ ملاقات کریں گے لیکن ان میں بھارت اور پاکستان کے وزرا اعظم کی ملاقات شامل نہیں ہے۔

بھارت کے حکام کے مطابق پاکستان کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی سے وزیراعظم نواز شریف کی ملاقات کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے جبکہ سارک سربراہ کانفرنس میں کٹھمنڈو پہنچنے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی بھارت کا یک طرفہ فیصلہ تھا اور اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے گیند بھارت کی کورٹ میں ہے۔

سارک کانفرس ایک ایسے وقت منعقد ہو رہی ہے جب اس تنظیم کے دو اہم رکن پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور اس دوران متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ممالک کے سکیورٹی کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی مارے گئے۔

اسی بارے میں