کابل میں این جی او کے دفتر پر حملہ، دو غیر ملکی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہمیں ڈر ہے کہ حملہ آوروں نے کچھ لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے: ملٹری ٹرپل کور کے سربراہ قدم شاہ

شدت پسند جنگجوؤں نےافغانستان کےدارالحکومت کابل کے مغربی ضلع کارتے سہہ میں ایک غیر ملکی این جی او کے زیر استعمال عمارت پر حملہ کیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں نےمتعدد افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کم از کم دو غیر ملکی افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیٹو افواج کے افغانستان سے روانہ ہونے کی حتمی تاریخ قریب آنے کے ساتھ طالبان جنگجوؤں کے حملوں میں تیزی آئی ہے اور گذشتہ تین دنوں میں کابل میں یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ حملہ آور ان علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں غیر ملکی باشندوں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔

کارتے سہہ کے علاقے میں افغان پارلیمنٹ اور کئی وزارتوں کے دفاتر موجود ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم دو حملہ آور اب بھی عمارت میں موجود ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حملہ آوروں نے کچھ افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

افغانستان کی ملٹری کور ٹرپل ون کے سربراہ قدم شاہ شہیم نے کہا ہے کہ کم از کم دو خود کش حملہ آور سنیچر کی شام ایک عمارت کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

قدم شاہ نے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ حملہ آوروں نے کچھ لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے اور ہم اسی لیے احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

قدم شاہ نے بتایا کہ کم از کم دو افغان سکیورٹی گارڈ طالبان کے حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ انھوں نے عیسائیوں کی تنظیم کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے جو مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں مصروف ہے۔

جمعرات کو بھی طالبان حملہ آورنے کابل کے سفارتی علاقے میں قائم ایک گیسٹ ہاؤس کو نشانہ بنایا تھا۔اس حملے میں واحد حملہ آور ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اُدھر جنوبی افغانستان میں افغان فوجی نیٹو افواج کے مشہور اڈے کیمپ بیسشین میں گھس جانے والے طالبان جنجگوؤں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیٹو افواج نے ایک ماہ پہلے ہی کیمپ بیسشین کو خالی کر کے اسے افغان فوج کے حوالے کر دیا تھا۔

جمعرات کے روز خود کار ہتھیاروں سے لیس کئی درجن طالبان جنگجوؤں نے کیمپ بیسشین پر حملہ کیا۔ ان میں کئی کیمپ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ طالبان کے اس حملے میں کم از کم پانچ افغان فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔