کشمیر: دوسرے مرحلے کی پولنگ میں خطرات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پہلے مرحلے میں کوئی خون خرابہ نہیں ہوا جو کہ پچھلے 18سال میں ایک ریکارڈ ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 25 نومبر کو ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوئی خون خرابہ نہیں ہوا جو کہ پچھلے 18 سال میں ایک ریکارڈ ہے۔

لیکن دو دسمبر کو دوسرے مرحلے کی پولنگ سے قبل مسلح تشدد کی کئی وارداتیں ہوئیں، جن کے بعد بھارتی وزارت داخلہ نے کشمیر کی حکومت سے کہا ہے کہ آئندہ مراحل کے دوران مزید چوکس رہا جائے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران جو واقعات ہوئے ان میں جموں کے آرنیہ سیکٹر میں مسلح حملہ ایک خاص واقعہ ہے۔ فوج کا کہنا ہے اس حملے میں چار شدت پسند، تین فوجی اور پانچ شہری مارے گئے۔

پونچھ میں بھی بارودی دھماکہ ہوا، تاہم اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔

وادی کے تجارتی مرکز لال چوک میں نامعلوم افراد نے بم پھینکا جس میں سات نیم فوجی اہلکار اور ایک شہری زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ اتوار کی شب جنوبی قصبے شوپیان میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے حکمران نیشنل کانفرنس کے ایک کارکن محمد سلطان کو قتل کر دیا۔

کسی کشمیری مسلح گروپ نے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس قتل کے ردعمل میں علیحدگی پسندوں یا مسلح شدت پسندوں کا ذکر نہیں کیا، بلکہ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ان کی جماعت کے حوصلے ایسے حملوں سے پست نہیں ہوں گے۔

کپواڑہ کے لنگیٹ حلقے سے انتخابی امیدوار انجینیئر رشید کو شبہ ہے کہ ایسی ہلاکتوں میں سرکاری ایجنسیوں کا بھی کردار ہو سکتا ہے، تاہم انھوں نے مسلح گروپوں سے بھی وضاحت کی اپیل کی ہے۔

انجینیئر رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایسی ہلاکتوں کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا تو ایسے میں مسلح گروپوں سے اپیل کرنی ہے۔ لیکن کانگریس، پی ڈی پی یا نیشنل کانفرنس کے پاس مسلح قیادت سے اپیل کرنے کی جرات نہیں کیونکہ ان کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘

انجینیئر رشید نے پاکستان اور کشمیر میں مقیم مسلح گروپوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر واقعی ایسی ہلاکتوں میں ان کا ہاتھ نہیں ہے، تو وہ لوگ یہ تسلیم کریں کہ جس بڑے مقصد کی خاطر وہ لڑ رہے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ہر کشمیری کے زندہ رہنے کے حق کو تسلیم کیا جائے۔‘

واضح رہے کہ بھارت کی وزارت داخلہ نے عمرعبد اللہ کی حکومت کو انتخابات کے آئندہ مراحل کے دوران اضافی حفاظتی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک مراسلے کے مطابق کسی بڑے حملے کے بارے میں کوئی خفیہ اطلاع نہیں ہے، لیکن الیکشن میں رخنہ ڈالنے والی قوتیں سرگرم ہیں جن سے نمٹنے کے لیے تمام اداروں کو خبردار رہنا ہوگا۔

واضح رہے کہ دو دسمبر کو ہونے والی دوسرے مرحلے کی پولنگ میں جموں کی نو اور وادی کی نو سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ان 18 نشستوں کے لیے کل 175 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں سجاد غنی لون توجہ کا مرکز ہوں گے۔

ماضی میں علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کا حصہ رہنے والے سجاد لون نے حالیہ عرصے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اچانک ملاقات کر کے ان افواہوں کو تقویت دی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ان کی جماعت پیپلز کانفرنس کے ساتھ حکومت سازی کے لیے اتحاد کر سکتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بی جے پی نے جموں کشمیر میں 44 نشستیں حاصل کرنے کے لیے ہمہ گیر مہم شروع کر رکھی ہے اور اس سلسلے میں نریندر مودی کئی مرتبہ کشمیر کا دورہ کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں