بنگلہ دیش: ہلاکتوں پر سوال اٹھانے پر برطانوی صحافی کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی صحافی برگمین نے اپنے ایک مضمون میں بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں ہلاک شدگان سے متعلق سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھایا تھا

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے ایک برطانوی صحافی کو سنہ 1971 کی بنگلہ دیش کی جنگ میں مرنے والوں کے سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھانے پر توہینِ عدالت کا مجرم قرار دیا ہے۔

انعام یافتہ برطانوی صحافی ڈیوڈ برگمین نے سنہ 1971 کی بنگلہ دیش کی جنگ آزدی میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد پر اپنے ایک بلاگ میں سوال اٹھایا تھا۔

پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کی جنگ میں بنگلہ دیش کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30 لاکھ افراد مارے گئے تھے جبکہ برگمین کا کہنا تھا کہ اس دعوے کی حمایت میں کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سنہ 2011 میں برگمین کے ایک مضمون سے ’ملک کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے‘ اور اس لیے ان پر 65 ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے یا پھر سات دن قید کی ‎سزا سنائی گئی ہے۔

سرکاری وکیل توفیق افروز نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’برگمین توہین عدالت کے مرتکب پائے گئے ہیں اور ان پر پانچ ہزار ٹکا، یا اگر وہ جرمانہ ادا نہیں کرتے ہیں تو سات دن قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انھیں عدالتی کارروائی کے اختتام تک قید کر لیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بعض رہنماؤں کی سزا کے خلاف ملک گیر پیمانے پر مظاہرے ہوتے رہے ہیں

مبصرین کے خیال میں اس فیصلے کو بنگلہ دیش کے اظہارِ رائے کی آزادی کی پاسداری کے عہد کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش کی مختصر تاریخ میں سنہ 1971 کی جنگ میں مارے جانے والوں کی تعداد انتہائی متنازع مسئلہ رہا ہے۔

جج نے کہا کہ برگمین نے بین اقوامی کرائم ٹریبیونل پر تبصرہ کرنے میں غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا۔

واضح رہے کہ بنگہ دیش میں قائم جنگی جرائم کی عدالت نے حزب اختلاف کے بہت سے سرکردہ رہنماؤں کو بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں قتلِ عام کا مرتکب قرار دیا ہے اور ان میں سے بعض کو موت کی سزا بھی سنائی ہے۔

اسی بارے میں