ہانگ کانگ میں دھرنا رہنماؤں کی پسپائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ینی تائی، چن کِن مین اور چُو یائی منگ نے کہا کہ وہ خود کو روز پولیس کے حوالے کر دیں گے۔

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں کی مہم ’اوکیوپائی سینٹرل‘ (مرکز پر قبضہ کر لو) کا آغاز کرنے والے رہنماؤں میں سے کچھ نے ایک مرتبہ پھر مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ پیچھے آ جائیں۔

تحریک کے بانیوں میں سے تین رہنماؤں، بینی تائی، چن کِن مین اور چُو یائی منگ مرکزی ہانگ کانگ سے پیچھے ہٹ جانے کی اپیل کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ خود کو بدھ کے روز پولیس کے حوالے کر دیں گے۔

اوکیوپائی سینٹرل مہم کے آغاز میں ہانگ کانگ کے مرکزی علاقے میں جمہوریت کے حق میں بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے، لیکن بعد میں ان مظاہروں میں کمی آتی گئی اور اس میں صرف طلبہ باقی بچے تھے۔

اس دوران طلبہ کے رہنما جوشوا وانگ نے بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک حکومت ان سے ملک میں سیاسی اصلاحات پر مذاکرات نہیں کرتی، وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

اوکیوپائی سینٹرل کے حامیوں اور طلبہ کا مطالبہ ہے کہ چین سنہ 2017 میں ہانگ کانگ کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدواروں کی پڑتال کا منصوبہ ترک کرے۔ مظاہرین کے دونوں گروہوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ہانگ کانگ کی حکومت چین سے دوبارہ بات چیت کرے۔

منگل کو پریس کانفرنس میں بینی تائی نے ایک لکھا ہوا بیان پڑھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اپنی جانب سے ’ذمہ داری کا مظاہرہ اور اپنے وعدے کا پاس‘ کرتے ہوئے تینوں رہنما خود کو پولیس کے حوالے کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران دوسرے بانی رہنما مسٹر چُو کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

تینوں رہنماؤں کے لکھے ہوئے بیان میں مزید درج تھا کہ ’مظاہرین کی سلامتی اور حفاظت کی خاطر، محبت اور امن کی خاطر اب جب ہم تینوں اپنی گرفتاری پیش کر رہے ہیں تو ہمارا طلبہ سے بھی مطالبہ ہے کہ وہ لوگوں میں ہم آہنگی اور تحریک میں پہلے والا جذبہ بحال کرنے کی غرض سے دھرنے کی جگہ سے پیچھے چلے جائیں۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اوکیوپائی سینٹرل کے رہنما ہانگ کانگ کی پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری عمارات کے اردگرد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، تاہم یہ گروپ عوامی مذاکروں، لوگوں میں بیداری اور جمہوریت پسند گروہوں کی مالی مدد کے ذریعے اپنا کام جاری رکھے گا۔

مسٹر جوشوا وانگ نے اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پیر کی شام اس امید پر بھوک ہڑتال شروع کی تھی کہ حکومت سیاسی اصلاحات کے معاملے میں ان سے دوبارہ مذاکرات پر رضامند ہو جائے گی۔

منگل کو انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کا بڑا احتجاج کرنا مشکل ہو جائے گا، اس لیے لاٹھی چارج اور آنسوگیس سے بچنے کے علاوہ، ہم بھوک ہڑتال کے ذریعے یہ بوجھ اپنے جسم پر لے رہے ہیں۔

’ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ہماری بھوک ہڑتال سے حکومت دباؤ میں آ جائے گی لیکن جب عوام کو احساس ہوگا کہ طلبہ بھوک ہڑتال پر جا چکے ہیں تو لوگ خود ہی فیصلہ کریں گے کہ احتجاج کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کا بڑا احتجاج کرنا مشکل ہو جائے گا

واضح رہے کہ اتوار کی رات اور پیر کی صبح پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں بدترین تصادم دیکھنے میں آیا تھا اور اس دوران ہانگ کانگ میں سرکاری دفاتر جزوی طور پر بند رہے۔

پولیس نے مرچوں کے سپرے، لاٹھیوں اور تیز پانی کی دھار کے ذریعے ایڈمیرالٹی ڈسٹرکٹ کی لنگ وو نامی شاہراہ کو مظاہرین سے خالی کروایا تھا۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے مانگ کوک کے تجارتی علاقے میں ایک احتجاجی کیمپ کو ہٹانے کے موقعے پر 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں