بغل میں چھورا شہر میں ڈھنڈورا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارتی عوام کالا دھن کے متعلق مختلف خیالات کے حامل ہیں

دہلی کے نواحی شہر نوئیڈا کے چیف انجینیئر آج کل سرخیوں میں ہیں۔ وہ غیر معمولی شخصیت کے مالک ہیں۔ چند روز قبل جب مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئي نے بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں ان کے مکان پر چھاپہ مارا تو ان کی گاڑی سے دس کروڑ روپے برآمد ہوئے۔

تفتیش کار مکان میں داخل ہوئے تو وہاں تقریباً دو کلو سونے کے زیورات ملے جن میں ہیرے اور دوسرے قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے۔ ان کے 13 بینک لاکر ہیں جنھیں اب کھولا جائے گا اور اس کے علاوہ ان کی 35 کمپنیوں سےوابستگی بھی ہے۔ اگر سی بی آئی کے الزامات درست ہیں تو انجینیئر صاحب کی کل اثاثے کئی سو کروڑ روپے ہوسکتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ اس سب میں سے کچھ رقم غیر قانونی طور پر کمائی گئی ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سب ان کی محنت کا نتیجہ ہو۔ لیکن چیف انجینیئر صاحب کی تعریف کرنا ہوگی کہ انھوں نے جو کیا سو کیا لیکن اپنے ڈرائیور کا بھی خیال رکھا ورنہ دولت کمانے کی ہوس میں غریبوں کو کون یاد رکھتا ہے؟

گاڑی میں دس کروڑ ڈرائیور کے لیے ہی تو چھوڑے ہوں گے کہ وقت ضرورت کام آئیں، اور تفتیش کے دوران ہو سکتا ہے کہ یہ بھی ثابت ہو جائے کہ زیورات ان کی گھریلو ملازمہ کے ہوں۔ یہ بےچاری عورتیں غربت کی وجہ سے اکثر کچی بستیوں میں رہتی ہیں جہاں اپنے زیوارت کی حفاظت کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے، اس لیے اپنے مالکوں کے مکان میں لاکر رکھ دیتی ہیں۔

اور بے چاری حکومت کالا دھن بیرون ملک ڈھونڈ رہی ہے!

مودی ہندوستان کا بھی دورہ کریں گے!

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ دنوں بھارت کی شمال مشرقی ریاست کا دورہ کیا

جب سے نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں، یکے بعد دیگرے غیرملکی دورے کر رہے ہیں۔ شاید اسی لیے لوگ کہہ رہے ہیں کہ فرصت ملتے ہی وہ ہندوستان کا بھی دورہ کریں گے اور اچھے دن اپنے ساتھ لائیں گے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد سے انتہائی تیز رفتاری اختیار کی ہے۔ تقریباً روزانہ وہ کسی نئی سکیم کا اعلان کرتے ہیں، اور اگلے دن کانگریس کا یہ بیان آتا ہے کہ یہ سکیم تو وہ (کانگریس) شروع کرنے والی تھی، بی جے پی کی حکومت اسے اپنی برانڈنگ کے ساتھ بیچ رہی ہے۔

کچھ حد تک یہ دعویٰ درست بھی ہے۔ مثال کے طور پر سبسڈی براہ راست ضرورت مندوں کے کھاتوں میں ٹرانسفر کرنے کی سکیم، یا ادھار کارڈ، جو ایک طرح کا شناختی کارڈ ہے اور جس کی پہلے بی جے پی نے کافی مخالفت کی تھی، یا ٹوائلٹ بنانے کی سکیم۔ بس فرق یہ ہے کہ ان کا اچانک نئی شدت کے ساتھ ذکر شروع ہوگیا ہے۔

اسی لیے کانگریس کے لیڈر آنند شرما نے کہا ہے کہ بی جے پی کی حکومت میں تمام فیصلے وزیر اعظم کےدفتر سے کیے جارہے ہیں، باقی کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ وقت کیسے بدلتا ہے، جب من موہن سنگھ وزیر اعظم تھے تو الزام یہ لگتا تھا کہ وزیر اعظم کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، وزرا جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔

سی بی آئی کے سربراہ سوتے رہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رنجیت سنہا پر ملزمان کی امداد کا الزام ہے

نریندر مودی جب ملک میں پولیس اور تفتیشی اداروں کے سربراہوں کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے تو سی بی آئی کے متنازع سربراہ رنجیت سنہا اپنی سیٹ پر سوتے ہوئے نظر آئے۔

رنجیت سنہا پر الزام ہے کہ انھوں نے ٹو جی سکیم کے بعض ملزمان کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی اور اسی وجہ سے سپریم کورٹ نے انھیں اس کیس سے الگ رہنے کا حکم دیا ہے۔

اس اجلاس میں ملک کے اعلیٰ ترین افسران حصہ لیتے ہیں اور اس میں دہشت گردی جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جاتا ہے۔ وہاں لگاتار دو دن میں دو مرتبہ سوجانے سے دو ہی نتیجے اخذ کیے جا سکتے ہیں: یا تو نریندر مودی کی تقریر بہت بیزارکن تھی یا پھر رنجیت سنہا کی راتوں کی نیند اڑی ہوئی ہے۔

دونوں ہی امکانات خطرناک ہیں کیونکہ اگر مودی کی تقریر کا جادو ختم ہو رہا ہے تو یہ سوا ارب ہندوستانیوں کے لیے بری خبر ہے۔

اور اگر رنجیت سنہا کی راتوں کی نیند اڑی ہوئی ہے تو یہ سی بی آئی کے لیے بری خبر ہے۔

اسی بارے میں