’بھوپال اور ہٹلر کے چیمبر کی گیس ایک ہی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Raajkumar Keswani
Image caption اس فیکٹری نے بھوپال میں سنہ 1969 سے صرف ایک فارمولیشن پلانٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا

بھارت کے وسطی شہر بھوپال میں یونین کاربائیڈ کے پلانٹ کے حادثے کی 30 ویں سالگرہ پر دہلی میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

بھوپال گیس سانحے کو 30 برس گزر چکے ہیں لیکن نہ ابھی اُس خوفناک رات کی یاد دھندلی ہوئی ہے اور نہ ہی یونین کاربائیڈ کی فیکٹری سے نکلنے والی گیس کی زد میں آنے والوں کے زخم بھرے ہیں۔

دو اور تین دسمبر سنہ 1984 کی درمیانی شب اچانک کیڑے مارنے والی دوا کی اس فیکٹری سے زہریلی گیس نکلنا شروع ہوگئی تھی۔ رات کے تقریباً 12 بج رہے تھے، کڑا کے کی سردی تھی اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ انتہائی زیریلی (میتھل آئسوسایانیٹ) گیس چاروں طرف پھیل گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ نیند سے اٹھے ہی نہیں، جو اٹھ سکے ان کے پاس بھاگ کر جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Raajkumar Keswani
Image caption حکومت نے مرنے والوں کی تعداد چار سے پانچ ہزار کے درمیان تسلیم کی تھی، لیکن دوسرے ذرائع کے مطابق اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تھی

سب سے زیادہ متاثر فیکٹری کے گرد و نواح میں کچی بسیتوں میں رہنے والے لوگ ہوئے۔ لیکن بھوپال شہر بھی محفوظ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ جس حال میں بھی تھے، جان بچانے کے لیے شہر چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

حکومت نے پہلے تقریباً چار ہزار اموات کا اعتراف کیا، لیکن دیگر آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلے 72 گھنٹوں میں ہی آٹھ سے دس ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے بعد زہریلی گیس کی زد میں آنے والی پیچیدگیوں نے تقریباً 25 ہزار لوگوں کی جان لی۔ بڑی تعداد میں لوگ آج بھی مختلف تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Raajkumar Singh
Image caption اس حادثے کا شمار انسانی تاریخ کے بڑے سانحوں میں ہوتا ہے

صحافی اور مصنف راج کمار كیسوانی نے اس حادثے کے رونما ہونے سے قبل ہی اس کی جانب اشارہ کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ یہ فیکٹری کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی ہندی کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھا: ’سنہ 1981 کے کرسمس کے وقت کی بات ہے۔ میرا دوست محمد اشرف یونین کاربائیڈ فیکٹری میں پلانٹ آپریٹر تھا اور رات کی شفٹ میں کام کر رہا تھا۔ فاسجين تیار کرنے والی مشین سے متعلق دو پائپ کو جوڑنے والی خراب فلینج کو بدلنا تھا۔ جیسے ہی اس نے فلینج کو ہٹایا، جان لیوا فاسجين گیس کی زد میں آ گیا۔ اسے فوری طور ہسپتال لے جایا گیا پر اگلی صبح اشرف نے دم توڑ دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Raajkumar Keswani
Image caption جو جہاں سو رہے تھے ویسے ہی سوتے رہ گئے

ان کے مطابق اس وقت فیکٹری میں جن کیمیکلوں کا استعمال شروع کیا گیا تھا، ان کے متعلق اشرف خوفزدہ اور پریشان تھا۔ یہاں تک کہ وہ نوکری چھوڑنے کے بارے میں بھی سوچنے لگا تھا۔

جو فیکٹری اس بڑے حادثے کا سبب بنی اس کا نام یونین کاربائیڈ انڈیا لمیٹڈ (يوسي آئی ایل) تھا جو امریکی یونین کاربائیڈ کارپوریشن کی ذیلی کمپنی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Raajkumar Keswani
Image caption اس میں فیکٹری کے آس پاس کی بستیاں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں

اس فیکٹری نے بھوپال میں سنہ 1969 سے صرف ایک فارمولیشن پلانٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا۔ جبکہ سنہ 1977 میں اس نے کیڑے مار ادویات کی پیداوار شروع کر دی۔

اگلے مرحلے کے تحت سنہ 1980 میں بھوپال میں ایک پلانٹ لگایا گیا۔ یہ وہی پلانٹ تھا جس نے 1984 میں بھوپال کو ’سٹی آف دیتھ‘ (موت کا شہر) بنا دیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’کاربائیڈ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں، سوائے اس کے کہ یہ ’سیون‘ اور ’ٹیمك‘ نامی ادویات تیار کرتا تھا: ’میں شہر کی تمام لائبریریوں اور بطور خاص برٹش لائبریری اور مقامی سائنس کالج سے علم کیمیا کی معلومات حاصل کرنے میں لگ گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Raajkumar Keswani
Image caption نہ صرف انسان اس کی زد میں آئے بلکہ مویشی بھی نہ بچ سکے

انھوں نے بتایا: ’اسی دوران پتہ چلا کہ دوسری عالمی جنگ میں اسی کیمیائی مادے کا استعمال کیا گیا تھا۔ ہٹلر کے گیس چیمبروں میں بھی اس کا استعمال ہوا تھا۔

اس بات نے مجھے چونکا دیا۔ پھر بھی اس پلانٹ کے متعلق میں جیسے اندھیرے میں بھٹک رہا تھا۔ اس میں فاسجين کی مقدار کہیں زیادہ تھی اور یہ مرکب زیادہ مہلک ہو سکتا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ انھیں جو خدشہ تھا بالآخر وہی ہو کر رہا۔

اسی بارے میں