کشمیر: پانچ حملوں میں آٹھ فوجیوں سمیت 20 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات ہو رہے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں فوج اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے اوڑی قصبے میں مسلح شدت پسندوں نے فوجی کیمپ پر خودکش حملہ کیا جس کے بعد طویل تصادم شروع ہوا جو آخری خبریں آنے تک جاری تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک روز میں پانچ مختلف حملوں میں 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی انتخابی ریلی سے دو روز قبل مسلح حملوں میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع موہن پاریکر نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ یہ حملے انتخابات کی وجہ سے کیےگئے ہوں۔۔۔گھرے ہوئے باقی عسکریت پسندوں کو بھی ختم کیا جائے گا۔‘

20 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ 12 گھنٹوں کے عرصے میں مسلح شدت پسندوں نے وادی بھر میں پانچ حملے کیے جن میں 20 افراد مارے گئے۔ سب سے بڑا حملہ شمالی کشمیر کے اوڑی قصبے میں موہڑا مقام پر ہوا جہاں جمعرات کو مسلح شدت پسند فوج کے آرٹلری ڈویژن داخل ہو گئے۔

جمعے کی صبح جب فوج کی جوابی کارروائی میں شدت آگئی تو طویل تصادم شروع ہوا۔

بھارتی فوج کے بریگیڈیئر محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں ایک سینیئر افسر سمیت آٹھ فوجی اور تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ چھ شدت پسندوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ مسلح شدت پسند دو الگ الگ گروہوں میں ایل او سی عبور کر کے اُوڑی پہنچے اور وہاں ایک گروپ آرٹلری ڈویژن کے اندر داخل ہوا جب کہ دوسرے گروپ نے اُس وقت حملہ کیا جب فوج کی مزید کمک جائے واردات پر روانہ کر دی گئی۔

فوج کے ایک افسر نے بتایا: ’یہ ایک مربوط اور منظم حملہ ہے۔‘

دریں اثنا سرینگر کے مضافاتی علاقہ صورہ میں بھی پولیس اور فوج نے ایک مکان کا محاصرہ کیا جس کے بعد وہاں موجود مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ پولیس کے سربراہ کے راجندرا نے بتایا کہ اس تصادم میں دو شدت پسند مارے گئے۔ بعد ازاں جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ، ترال اور شوپیان علاقوں میں بم حملے کیے گئے۔

ترال میں ہونے والے دھماکے میں سات شہری مارے گئے جن میں سے ایک کی موت ہوگئی۔

کشمیر میں گذشتہ چند روز میں کئی مسلح حملے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جموں کے آرنیہ سیکٹر میں بھی ایک طویل جھڑپ کے دوران دس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

جنوبی قصبہ پلوامہ میں گذشتہ روز ایک بم حملہ کیا گیا جس میں ایک نیم فوجی افسر مارا گیا اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔ اس حملے کی ذمہ داری مسلح گروپ جیش محمد نے قبول کی ہے۔

تشدد کی سطح میں اضافہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب کشمیر میں انتخابات کے دو مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور تیسرے مرحلے کے تحت بارہ مولہ اور اُوڑی میں نو دسمبر کو ووٹنگ ہو گی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پیر کے روز سرینگر میں ایک عوامی ریلی سےخطاب کر رہے ہیں۔ مسٹر مودی کی آمد اور انتخابات کے پس منظر میں مسلح حملوں میں تیزی کو سکیورٹی اداروں نے تشویش ناک قرار دیا ہے۔

پولیس اور فوجی افسروں کا کہنا ہے: ’کشمیر میں جو سیکورٹی نظام ہے اس میں پولیس، فوج اور نیم فوجی اداروں کا ایک مشترک کور گروپ ہے جو سلامتی کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ کشمیرکے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے بی جے پی نے ہمہ گیر مہم شروع کر رکھی ہے اور نریندر مودی، امیت شاہ اور راج ناتھ سنگھ متعدد بار وادی کا دورہ کر چکے ہیں۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ بی جے پی کی طرف سے کشمیر میں شدید سیاست کے بعد شدت پسند گروپوں نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

اسی بارے میں