’بابری مسجد لے جائیے مجھے امن لوٹا دیجیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بابری مسجد چھ دسمبر 1992 کو منہدم کی گئی تھی

چند دنوں قبل بابری مسجد کے اصل مدعی محمد ہاشم انصاری نے ایودھیا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بابری مسجد کے مقدمے کی پیروی اب مزید نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ مقدمہ قیامت تک چلتا رہے گا اور اس کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔ ہاشم انصاری نے کہا کہ وہ اپنی پوری زندگی انصاف کے لیے لڑتے رہے اور دونوں جانب کے مذہبی اور سیاسی رہنا اس تنازع سے سیاسی فائدہ اٹھاتے رہے۔

انھوں نے کہا کہ 65 برس تک مقدمہ لڑتے لڑتے وہ تھک چکے ہیں اور وہ اب ’بھگوان رام‘ کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب وہ اس مقدمے کی مزید پیروی نہیں کریں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشو ہندو پریشد ایودھیا کی بابری مسجد کی مسماری کا جشن ہر برس چھ دسمبر کو ’یوم شجاعت‘ کے طور پر مناتی رہی ہیں۔

اس برس ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی ایما پر یہ جشن ہلکے طور پر منایا جا رہا ہے۔ چونکہ بی جے پی اقتدار میں ہے اس لیے وہ مودی حکومت کے لیے کسی طرح کی مشکل نہیں پیدا کرنا چاہتے۔

بابری مسجد چھ دسمبر 1992 کو منہدم کی گئی تھی۔ مسجد کے تین بڑے بڑے گنبد تھے۔ درمیانی گنبد کے نیچے مِنبر کے مقام پر انہدام کے بعد ایک عارضی مندر بنا دیا گیا ہے اور وہاں وہی مورتی رکھی گئی جو دسمبر 1949 میں ہندو مہا سبھا سے تعلق رکھنے والے ایک سادھو نے مسجد کے اندر رکھ دی تھی۔

ہائی کورٹ اس مقدمے کا فیصلہ کر چکا ہے جس کے تحت مسجد کی اصل زمین رام مند کو دے دی گئی ہے اور مسجد کے فریق سے کہا گیا ہے وہ اس احاطے سے دور کہیں اپنی عبادت گاہ بنا لیں۔ مسجد کے فریقین نے سپریم کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے۔ فیصلہ آنے میں برسوں میں لگ سکتے ہیں۔

اس تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بارہا کوششیں کی گئیں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ کئی سرکردہ مذہبی رہنماؤں نے مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو قبول کر لینے کی اپیل کی لیکن مسلمانوں کے سخت گیر عناصر سپریم کورٹ تک جانے پر مصر رہے۔

کچھ دنوں پہلے میں نے ایودھیا میں ہاشم انصاری سے ملاقات کی تھی۔ 95 برس کے ہاشم انصاری نے بہت تکلیف کے ساتھ کہا تھا کہ ’جمہوریت تو اسی دن ختم ہو گئی جس دن بابری مسجد میں مورتی رکھی گئی‘۔

ان کا خیال ہے کہ یہ تنازع بنیادی طور ایک سیاسی کھیل تھا اور جس کا سب سے اہم کردار کانگریس تھی۔ انھوں کہا کہ ’آپ بابری مسجد لے جائیے مجھے جمہوریت اور امن و آشتی لوٹا دیجیے۔ مجھے بابری مسجد نہیں چاہیے۔‘

پچھلے دنوں جب ہاشم انصاری نے یہ بیان دیا کہ وہ بابری مسجد کے مقدمے کی اب پیروی نہیں کریں گے تو وہ ایک سیکیولر، ایماندار اور شکستہ دل کا کرب تھا جو 65 برس سے اس مسجد کی بازیابی کی امید کرتا رہا جہاں کبھی انھوں نے نماز پڑھی تھی۔

بھارت کی عدلیہ نے پہلا فیصلہ دینے میں ساٹھ برس لگا دیے۔ حتمی فیصلہ کے لیے سماعت کا ابھی آغاز ہوا ہے۔

ہاشم انصاری نے ایک بار کہا تھاکہ اس مقدمے کا جو بھی فیصلہ کرنا ہے کر لو لیکن جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ واضح طور پر کسی ایک فریق کے حق میں ہونا چاہیے اور فوراً ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں