نئی بھارتی سپر ہیرو، ریپ کا شکار ’پریا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Divulgacao

بھارت میں جنسی تشدد کے مسئلے کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی غرض سے ایک نئی تصویری کہانی شائع کی گئی ہے جس کی مرکزی کردار یا ’سُپر ہیرو‘ ایک ایسی لڑکی ہے جو ریپ کے تلخ تجربے سے گزر چکی ہے۔

’پرییا کی شکتی‘ یا ’پریا کی ہمت‘ نامی یہ کامک یا تصویری کہانیوں کا سلسلہ ہندو دیومالائی کہانیوں سے متاثر ہے جس میں گینگ ریپ کا شکار ہو جانے والی پریا نامی لڑکی اور ہندو دیوی پروتی مل کر بھارت میں جنسی جرائم کے خلاف لڑتی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تصویری کہانی اور اس پر مبنی فلم بنانے والی ٹیم کے اہم رکن رام دیوینینی کا کہنا تھا کہ انھیں اس کہانی کا خیال سنہ 2012 میں اس وقت آیا جب ایک 23 سالہ طالبہ کو دہلی میں ایک بس میں اجتماعی ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ رام دیوینینی خود بھارتی نژاد امریکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’جب اس طالبہ کے ریپ کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے، اس وقت میں دہلی میں ہی تھا اور میں نے کچھ مظاہروں میں حصہ بھی لیا تھا۔ ایک دن میں ایک پولیس والے سے بات کر رہا تھا تو میں اس کا یہ فقرہ سن کر چونک گیا کہ ’ کوئی اچھی لڑکی رات کے وقت اکیلی سڑک پر نہیں جاتی۔

’یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ بھارت میں جنسی تشدد ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور لڑکیوں کے خلاف جنسی جرائم کو مردانہ برتری، عورتوں کی تحقیر اور ان جیسے منفی معاشرتی رویوں سے تقویت ملتی ہے۔‘

بھارتی معاشرے میں جہاں مردوں کو عورتوں پر ترجیح دی جاتی ہے، وہاں ریپ کرنے والے کی بجائے عموماً ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی یا خاتون کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے معاشرے میں بے عزتی اور تحقیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

رام دیوینینی کا کہنا تھا: ’مجھے کچھ ایسی خواتین اور لڑکیوں سے بات کرنے کا موقع ملا جنھیں ریپ کا نشانہ بنایا جا چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر اور محلے والوں نے انھیں انصاف لینے سے منع کیا تھا۔ اس کے علاوہ انھیں ریپ کرنے والوں اور ان کے گھر والوں کی جانب سے دھمکیاں بھی ملی تھیں۔ حتیٰ کہ پولیس نے بھی ان کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔‘

تصویری کہانی میں بھارتی معاشرے کی یہ تلخ حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب پریا اپنے والدین کو بتاتی ہے کہ اسے ریپ کر دیا گیا ہے تو اس کے والدین اسے ہی اس کا ذمہ دار گردانتے ہیں اور اسے گھر سے نکال دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس کہانی میں پریا ایک عام نوجوان بھارتی لڑکی اور اس کے خوابوں کی نمائندگی کرتی ہے: ’ہر نوجوان لڑکی یا لڑکے کی طرح پریا بھی اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہے، لیکن ریپ ہو جانے کے بعد اس کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔‘

اس کہانی میں ہندو مت کے دو بڑے کرداروں، شیوا اور پروتی، کی مدد سے پریا اپنے ساتھ ہونے والے المیے کو اپنی طاقت میں بدل دیتی ہے، اور کہانی کے آخر میں وہ ایک شیر پر سوار ہو کر اپنے دشمنوں کا قلع قمع کرنے نکل جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مسٹر دیوینینی کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بات کہنے کے لیے ہندو دیو مالائی کہانیوں کا سہارا لیا کیونکہ بھارت میں اکثریتی مذہب ہندومت ہے اور ہندو مت سے منسلک کہانیاں ملک کی تہذیبی زندگی کا جزو ہیں۔ بھارت کی کل آبادی 1.4 ارب ہے جس میں 80 فیصد تعداد ہندوؤں کی ہے۔

مسٹر دیوینینی نے کامک بنانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور گلیوں میں آرٹ بنانے والے اور بالی وُڈ کے فلمی پوسٹر بنانے والوں کو بھی قائل کیا ہے کہ وہ ممبئی کی دھراوی کی کچی بستیوں میں پریا کے کردار کو عام کریں۔

مسٹر دیوینینی کے بقول دیواروں پر بنی ہوئی اس قسم کی پینٹنگز کرداروں کو تقویت دیتی ہیں اور یوں عام لوگوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے سمارٹ فونز پر ان پینٹنگز کی تصویریں اتار کر لوگوں کی آگاہی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مسٹر دیوینینی نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں لوگ ان کی کامک کی ڈیجیٹل کاپی مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس تصویری کہانی کے ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ترجمے دسمبر کے آخر تک ان کی ویب سائٹ comic.con.mumbai پر دستیاب کر دیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مسٹر دیوینینی کا کہنا ہے کہ ’ہمارا ہدف اس تصویری کہانی کو دس سے 12 سال کے بچوں اور ان سے بڑے نوجوانوں میں عام کرنا ہے کیونکہ یہ بڑی نازک عمر ہوتی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس بارے میں نوجوانوں سے گفتگو کا آغاز کیا جا سکے۔

اسی بارے میں