نیا طالبان مخالف اتحاد؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستانی فوج نےگذشتہ دس سالوں میں پہلی بار القاعدہ کے کسی اہم رہنما کو ہلاک کیا ہے

برسوں کے پس و پیش کے بعد شکست اور موت میں مبتلا سرحد کے دونوں اطراف پر موجود طالبان اور القاعدہ کے ساتھ ساتھ کیا ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں کسی پیش رفت کے کنارے پر کھڑے ہیں؟

افغان، امریکی اور نیٹو حکام ایک عرصے سے پاکستانی فوج پر ڈبل گیم کھیلنے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج افغانستان میں ایک جانب نیٹو اور امریکی اتحاد کی مدد کر رہی ہے اور دوسری جانب القاعدہ اور افغان طالبان کو پاکستان میں پناہ دینے کی اجازت دیتی ہے۔ یہاں تک کہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں امریکی افواج کے ہاتھوں ہلاکت بھی پاکستانی فوج کے طور طریقوں کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، اور وہ بدستور افغان طالبان کی حمایت کی تردید کرتی رہی۔

پاکستان میں سنہ 2001 کے بعد سے متعدد افغان طالبان رہنما رہائش پذیر رہے ہیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دس روزہ دورۂ واشنگٹن کے دوران افغان، امریکی اور نیٹو حکام کی جانب سے عائد ہونے والے الزامات نے انھیں بہت تنگ کیا۔ ان حکام کا موقف تھا کہ پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں گذشتہ چھ ماہ سے جاری آپریشن ضربِ عضب آپریشن میں کسی بڑے جنگجو کو پکڑنے یا مارنے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تاہم اب یہ تصورات شاید بدل رہے ہیں کیونکہ امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں ڈرامائی بہتری آ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ نے پہلی بار پاکستانی طالبان شدت پسندوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے

پاکستانی فوج نےگذشتہ دس سالوں میں پہلی بار القاعدہ کے ایک اہم رہنما یعنی عدنان شکری جمعہ کو ہلاک کیا ہے۔

امریکی شہری عدنان الشکری جمعہ چھ دسمبر کو پاکستانی افواج کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں کی جانے والی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔

عدنان الشکری جمعہ پر تقریباً دس سال قبل امریکہ اور برطانیہ میں ہونے والے ناکام حملوں میں ملوث ہونے کا الزاما عائد کیا جاتا ہے جس کے بعد سے وہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں روپوش تھے۔

اطلاعات کے مطابق القاعدہ کے ایک اور اہم رہنما عمر فاروق اس کے اگلے دن یعنی سات دسمبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستانی شہری عمر فاروق مبینہ طور پر پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کی آپریشنل کمانڈ کے انچارج تھے۔

اچانک ہی پاکستان اور امریکہ نے القاعدہ کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے ایک دوسرے سے ایسا تعاون شروع کر دیا ہے جو 2004 کے بعد سے دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔

اس کے بعد امریکہ نے بھی پاکستان کو خوش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس نے پہلی بار پاکستانی طالبان شدت پسندوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جنھوں نے اس سے قبل افغانستان میں پناہ لے رکھی تھی اور جو وہاں سے پاکستان کے اندر حملے کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نئی افغان حکومت امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے

افغانستان کے سینئیر ذرائع کے مطابق سابق صدر حامد کرزئی کی حکومت ان شدت پسندوں کی چوری چھپے حمایت کرتی تھی اور ایسا پاکستان کی افغان طالبان کی حمایت کا بدلہ لینے کے لیے کیا جاتا تھا۔

امریکہ نے پہلی بار اب ان پاکستانی طالبان کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے، جس پر افغان حکام کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

افغان پولیس کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون طیارے نے سات دسمبر کو کنڑ صوبے میں نو مشتبہ پاکستانی طالبان کو ہلاک کیا جن میں ایک سینئیر کمانڈر بھی شامل تھا۔

اس سے قبل امریکہ نے پاکستانی طالبان کے حالیہ سربراہ ملا فضل اللہ کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغان صوبے کنڑ میں مقیم ہیں۔

یہ بات بالکل صاف ہے کہ واشنگٹن پاکستانی فوج کے اس ردِعمل سے خوش ہے۔

امریکہ نے اسی ہفتے پاکستان کو ایک اور انعام سے نوازا۔ اس نے سات دسمبر کو تصدیق کی کہ اس نے تین پاکستانی طالبان کو افغانستان سے پکڑ کر پاکستان کے حوالے کر دیا ہے جس میں لطیف محسود بھی شامل ہیں۔

لطیف محسود تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کے نائب کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔

حکیم اللہ محسود کو گذشتہ برس ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

لطیف محسود کو امریکی فوج نے اکتوبر 2013 میں پاکستانی سرحد کے قریب سے حراست میں لیا تھا جس کے بعد انھیں بگرام کے امریکی اڈے پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

پاکستانی حکام لطیف محسود کو ملک کے لیے خطرناک سمجھتے ہیں اور وہ ان کی واپسی کے لیے مطالبہ کرتے آئے ہیں۔

لطیف محسود کو پاکستان کے حوالے کرنے کے بعد افغان حکومت اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ پاکستانی فوج کابل کی مدد کیسے کرتی ہے۔

افغان حکومت اس بات کو بھی مدِنظر رکھے گی کہ پاکستان فوج کابل میں طالبان حملے کم کروانے کے لیے کس طرح اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

اسی بارے میں