چین میں سو سے زائد ویتنامی دلھنیں غائب

تصویر کے کاپی رائٹ Greg Baker AFP
Image caption 20 نومبر کو ان تمام دلھنوں نے اپنے شوہروں سے کہا ان کا ایک اجتماعی کھانا ہے جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئیں

چین کے شمالی صوبے ہیبئی میں پولیس نے مقامی مردوں سے شادی کے بعد سو سے زیادہ ویتنامی دلھنوں کے لاپتہ ہونے کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ان خواتین کے چینی مردوں سے رشتے کرانے والے ویت نامی افراد تھے جس کا انھوں نے 16 ہزار ڈالر فی دلھن کے حساب سے معاوضہ لیا تھا مگر رشتے کرانے کے فوراً بعد وہ غائب ہو گئے۔

صوبائی حکام نے سرکاری میڈیا کو بتایا ہے کہ اجتماعی گمشدگی کے اس واقعے میں کوئی منظّم جرائم پیشہ گروہ ملوث ہو سکتا ہے۔

چین میں صنفی عدم توازن کے باعث لوگ بڑی رقم ادا کر کے بیرون ملک سے دلھنیں خرید کر لاتے ہیں۔

یہ رشتے 20 سال سے ہیبیئی میں مقیم ایک خاتون وُو میئیُو نے کروائے۔

اس سال کے آغاز میں یہ خاتون ہیبیئی کے شہری علاقوں میں گئیں اور گاہکوں سے کہا وہ ایک لاکھ 15 ہزار یوان کے بدلے ان کی کسی ویت نامی لڑکی سے شادی کروائیں گی۔

جب شادیاں ہو گئیں تو 20 نومبر کو ان تمام دلھنوں نے اپنے شوہروں سے کہا کہ ان کا ایک اجتماعی کھانا ہے جس کے بعد یہ تمام لاپتہ ہو گئیں۔

جب ایک شوہر مس وُو کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کچھ روز قبل جا چکی ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ ان میں ایک دلھن واپس آ گئی ہے جس نے بتایا کہ کھانا کھانے کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی تھی اور ہوش میں آنے کے بعد اس نے خود کو اپنے شوہر کے گاؤں سے بہت دور ایک چھوٹے سے گھر میں پایا۔

اس دلھن کے بقول اسے کہا گیا کہ اب اسے کہیں اور لے جایا جائے گا جہاں اس کی کسی دوسرے شخص سے شادی ہو گی۔ اس خاتون نے وہ گھر چھوڑ دیا اور اپنے شوہر کے پاس لوٹ آئیں اور پولیس میں رپورٹ کر دی۔

چین کی طویل عرصے سے ایک بچے کی پالیسی نے وہاں صنفی عدم توازن پیدا کر دیا ہے کیونکہ چین میں لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اس لیے شہروں کے بعض غریب کنوارے افراد کو رشتہ کروانے والوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ ان کے لیے قریبی ممالک سے دلھنیں تلاش کریں جن میں ویت نام، کمبوڈیا اور برما شامل ہیں۔

انھی مطالبات کے باعث انسانی سمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ماہ حکام نے بتایا تھا کہ ایک ایسے گروہ کو گرفتار کیا گیا ہے جو ویت نامی لڑکیوں کو دلھنیں بنا کر چین میں بیچ رہا ہے۔

اسی بارے میں