’دولتِ اسلامیہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے والا زیرِ حراست‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دولت اسلامیہ کی خبریں اور اس کے شام اور عراق میں عروج کے بارے میں ٹویٹ کیے جاتے تھے

بھارتی ریاست کرناٹک کی پولیس نے دارالحکومت بنگلور میں اس شخص کو حراست میں لیا ہے جس پر اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے کا شبہ ہے۔

کرناٹک کے ڈائریکٹر جنرل پولیس ایل پچاو نے بی بی سی ہندی کو بتایا، ’ہم نے اس شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔‘

برطانیہ کے چینل 4 نے جمعرات کو خبر دی تھی کہ دولت اسلامیہ کا @ShamiWitness نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ بنگلور کی ایک بڑی کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ایک شخص چلا رہا ہے۔

ٹی وی چینل چینل 4 نے اس شخص کا نام صرف مہدی بتایا ہے کیونکہ چینل کا کہنا ہے کہ اگر اس شخص کی شناخت ظاہر کر دی گئی تو ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دولت اسلامیہ کی خبریں اور اس کے شام اور عراق میں عروج کے بارے میں ٹویٹ کی جاتی تھیں۔

اس اکاؤنٹ کے 18 ہزار فالوئرز تھے اور یہ انگریزی میں دولت اسلامیہ کے بارے میں خبروں کا واحد ذریعہ تھا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

چینل 4 کی خبر کے بعد صحافیوں نے اس شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جس پر یہ اکاؤنٹ بند کردیا گیا۔

بنگلور پولیس کے سربراہ ایم این ریڈی نے جمعے کو اعتراف کیا کہ تھا پولیس سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کی نگرانی نہیں کرتی لیکن اس واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ سوشل میڈیا کو بھرتی اور اپنے پیغامات پھیلانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

بنگلور سے چلنے والے @ShamiWitness اکاؤنٹ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے اکاؤنٹس کی تشہیر کرتا تھا اور ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی تعریف کیا کرتا تھا۔

چینل 4 کی خبر کے مطابق جو افراد اس اکاؤنٹ کو فالو کیا کرتے تھے ان سے اس بھارتی شخصیت نے کہا تھا کہ اگر ان پر خاندان کی ذمہ داری نہ ہوتی تو وہ دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لیتے۔

’اگر میرے پاس یہ آپشن ہوتی کہ سب کچھ کر ان کے ہمراہ ہو جاؤں تو میں ہو جاتا۔۔۔ میرے خاندان کو میری ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں