گاندھی کے قاتل کی تعریف کرنے پر معافی مانگنی پڑی

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption گوڈسے کو ہیرو بنانے پر حزب اختلاف نے شدید ہنگامہ کیا

بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں مہاتما گاندھی کے قاتل کو حب الوطن قرار دینے کے ایک دن بعد اپنے ان کلمات پر پارلیمان میں معافی مانگ لی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساکشی مہاراج معافی مانگتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا جس سے حزب اختلاف اور حزب اقتدار میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

اس ماہ کے شروع میں بی جے پی کے ایک اور رکن پارلیمان نے غیر ہندوؤں کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی۔

مہاتما گاندھی کو سنہ 1948 میں ایک سخت گیر ہندو نتھو رام گوڈسے نے ہلاک کر دیا تھا۔

گوڈسے جس کو گاندھی کے قتل کی سزا میں پھانسی دے دی گئی تھی گاندھی کی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی بات سے اختلاف تھا۔

جمعرات کو ساشکی مہاراج نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا: ’گوڈسے خوش نہیں تھا۔ اس نے غلطی کی لیکن وہ ملک دشمن نہیں تھا۔ وہ حب الوطن تھا۔‘

ساشکی کے بیان سے پارلیمان میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور حزب اختلاف کے ارکان نے گوڈسے کو ہیرو بنانے کی شدید مذمت کی۔

ساشکی نے ایک دن بعد لوک سبھا میں معافی مانگتے ہوئے کہا:’میں گاندھی جی کی عزت کرتا ہوں میں ایوان کا بھی احترام کرتا ہوں۔ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی ارکان قابل اعتراض بیانات دے چکے ہیں

لیکن انھوں نے مزید کہا کہ حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی نے سنہ 1984 میں سکھوں کے خلاف فسادات میں گاندھی جی کے نظریے کو خود قتل کر دیا جب انھوں نے سکھ کے خلاف ہندو گروپوں کو فسادات پر اکسایا۔

ساشکی کے ان جملوں نے حزب اختلاف کے ارکان کو مزید بھڑکا دیا اور انھوں نے ان کی معافی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

حکومت نے اپنے رکن کے ان کلمات سے خود کو علیحدہ کر لیا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر ایم وینکہیا ناڈیو نے کہا کہ کوئی بھی گاندھی کے قتل کی تعریف کو برداشت کر سکتا۔

بہت سے بھارتی شہریوں نے اس ٹوئٹر پر اس کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

صحافی ابھیجیت موجومدار نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ گوڈسے ان سب چیزوں کا ترجمان تھا جو ہندو ازم میں نہیں ہیں۔

شمالی مشرقی ریاست آسام کے وزیر اعلی نے کہاکہ بی جے پی گوڈسے کے عدم برداشت کے نظریے پر یقین رکھتی ہے۔

بی جے پی کے کئی رہنماوں نے حالیہ دنوں میں متنازعے بیانات دیے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں خوراک کے وزیر نرنجن جیوتی نے غیر ہندوؤں کے لیے نامناسب زبان استعمال کرتے ہوئے ایک جلسے میں لوگوں سے کہا تھا کہ وہ رام زادوں یا پھر ۔۔زادوں میں سے انتخاب کر لیں۔

نریندر مودی نے ان کی زبان پر اعتراض کیا تھا لیکن انھیں وزارت سے علیحدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سال انتخابات کے دوران مودی کے معتمد خاص اور بی جے پی کے موجودہ سربراہ امت شاہ پر نفرت انگیز تقاریر کرنے کے الزامات لگے تھے۔

مظفرگڑھ میں ایک انتخابی ریلی کے دوران انھوں نے کہا تھا کے انتخابات ایک موقع ہیں اس تمام ذلت کا بدلہ لینے کا جو سنہ 2013 کے مذہبی فسادات میں اٹھانی پڑی تھی۔

ان فسادات میں پینسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اکاون ہزار افراد جن میں زیادہ تر مسلمان تھے گھروں سے بے گھر ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں