شاہ جہاں کا ’تیجو مہالیہ مندر‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بی جے پی حکومت کے برسراقتدار آتے ہی ہندو نواز تنظیمیں پوری شدت کے ساتھ میدان میں اتر آئی ہیں

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن پارلیمان نے کہا ہے’گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے ایک محب وطن انسان تھے۔‘

کچھ عرصے پہلے آر ایس ایس کے ایک رہنما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’گوڈسے کو گاندھی کو نہیں نہرو کو قتل کرنا چاہیے تھا۔‘

آج کل بھارت میں بی جے پی اور اس کی ہم نوا مختلف تنظیموں کی طرف سے تقریبا روزانہ اس طرح کے متنازع بیانات آ رہے ہیں اور پورے ملک میں بحث چھڑی ہوئی ہے اور بھارت کی پارلیمان میں بھی روزانہ ہنگامے ہو رہے ہیں۔

جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی ہندو نواز تنظیمیں پوری شدت کے ساتھ حرکت میں آ گئی ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتا ہے۔

کچھ دنوں پہلے ایک وزیر نے بی جے پی کے علاوہ باقی جماعتوں کا ساتھ دینے والوں کو ناجائز اولاد قرار دیا تھا۔ ایک رکن نے پارلیمنٹ میں کہا کہ جوہری دھماکہ بھارت میں سادھوؤں نے تو کئی کروڑ سال پہلے ہی کر دیا تھا۔

چند دنوں قبل وزیر خارجہ سشما سوراج کے اس بیان پر پارلیمنٹ میں خاصہ ہنگامہ رہا کہ ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کو ’قومی کتاب‘ قرار دیا جائے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہا تھا کہ اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ گیتا کو سکولی نصاب میں لازمی کر دیتے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ وزیر تعلیم نے سنسکرت زبان کو سکولوں میں لازمی قراد دیا ہے۔

Image caption اتر پردیش بی جے پی کے صدر نے کہا کہ تاج محل مقبرہ نہیں بلکہ یہ ’تیجو مہالیہ‘ مندر ہے

ابھی یہ بحث چل ہی رہی تھی کہ آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے ذریعے آگرہ میں آباد کچھ غریب بنگالی مسلمانوں کو ہندو بنانے کا تنازع سامنے آیا۔ مسلمانوں نے یہ الزام لگایا کہ انھیں دھوکے میں رکھ کر مذہب تبدیل کیا گیا اور وہ تشدد کے خوف سے کچھ بول نہ سکے۔

پارلیمنٹ میں بحث ہوئی جس میں بی جے پی نے حزب اختلاف کی تشویش کو مسترد کر دیا اور سیکولرزم اور تاریخ کے بارے میں کچھ بنیادی سوالات اٹھائے۔

اس دوران بی جے پی اور آر ایس ایس کے بعض سخت گیر عناصر نے 25 دسبمر کو عیسائیوں کے سب سے بڑے تہوار کرسمس کے روزعلی گڑھ میں ہزاروں عیسائیوں اور مسلمانوں کو ہندو بنانے کے ایک بڑے پرگرام کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pratiksha Thangi
Image caption وزیر خارجہ سشما سوراج ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کو ’قومی کتاب‘ قرار دیے جانے کے حق میں ہیں

ہندو تنظیموں نے یہ اعلان بھی کیا ہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہندوؤں کی زمین پر قائم کی گئی تھی اور اس پر دوبارہ ہندوؤں کا غلبہ قائم کیا جائے گا۔

آر ایس ایس کی ایک ذیلی تنطیم کی طرف سے علی گڑھ میں جو پیمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ مسلمان اور عیسائی ملک کے لیے ایک مسئلہ ہیں۔

کچھ دنوں پہلے اتر پردیش بی جے پی کے صدر نے کہا کہ تاج محل مقبرہ نہیں بلکہ یہ ’تیجو مہالیہ‘ مندر ہے۔ اتر پردیش کے گورنر نے مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایودھیا میں منہدم بابری مسجد کے متنازع مقام پر جلد از جلد رام مندر تعمیر کرائے۔

بھارت میں روزانہ اس طرح کے تنازعے اور بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ مودی حکومت بار بار اس بات کا اعادہ کر رہی ہے کہ وہ ملک کے سیکولرآئین اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کی پابند ہے لیکن ساتھ ہی وہ اپنی محاذی تنظیموں کا دفاع بھی کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آر ایس ایس جیسی تنظیمیں ہندوتوا کے ایجنڈے کو ملک میں تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے نکل پڑی ہیں

بھارت کے عوام نے کانگریس کی ایک ناکارہ اور مفلوج حکومت کو مسترد کرنے بعد ترقی اور ایک بہتر وشفاف انتظامیہ کے قیام کی امید میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے کو ووٹ دیا تھا۔

وزیر اعظم نرینرر مودی اپنے اہم وزیروں کے ساتھ اس وقت پوری شدت سے بھارت کی شکل کو پوری طرح بدلنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

آزادی کے بعد یہ بھارت کی پہلی ایسی حکومت ہے جو ہفتے میں کابینہ کی تین تین میٹنگیں کر رہی ہے اور اپنی ہی کاردگی کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ مودی حکومت بہت تیزی کے ساتھ اپنے ترقی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کی کو شش میں ہے۔

مودی حکومت کو یہ پتہ ہے کہ اس کی مقبولیت اور قبولیت کا سبب صرف اور صرف ترقی کا ایجنڈہ ہے۔ اگر اس نے تیزی سے ہاتھ سے نکلتی ہوئی اپنی محاذی تنظیموں پر جلد ہی قدغن نہ لگائی تو حکومت کی مقبولیت کو اسی شدت سے زک پہنچے گی جس شدت کے ساتھ لوگوں نے اس سے تبدیلی کی تمنا کی تھی۔

اسی بارے میں